پاکستان کے سمندر میں کھودے جانے والے کنویں سے تیل و گیس کے ذخائر دریافت ہو گئے

کیکڑا 1 کنویں کی کھدائی مکمل ہونے پر 5450میٹر کی گہرائی میں ہائڈروجاربن کی موجودگی سامنے آ گئی ہے

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ جمعرات مئی 19:35

پاکستان کے سمندر میں کھودے جانے والے کنویں سے تیل و گیس کے ذخائر دریافت ..
کراچی(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔16مئی2019ء) کراچی کے ساحل سے 230کلومیٹر دور سمندر میں کیکڑا 1کنویں کی کھدائی مکمل ہونے کے بعد 5450میٹر کی گہرائی میں ہائڈروجاربن کی موجودگی سامنے آ گئی ہے۔ کھدائی کرنے والی کمپنی کی روپورٹ کے مطابق کیکڑا 1کنویں میں 5450میٹر کی گہرائی میں تیل و گیس کے ذخائر کی موجودگی کے ٹھوس ثبوت مل گئے ہیں اور ہائڈروکاربن کے نمونے ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں جہاں سے چند دنوں نے میں ٹیسٹ کے نتائج کی رپورٹ مل جائے گی۔

کراچی کے ساحل سے 230کلومیٹر دور سمندر میں کیکڑا 1کنویں کی کھدائی بند کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کیکڑا ون کنویں میں 5450کلومیٹر کی گہرائی میں ہائڈروکاربن کی موجودگی پائی گئی ہے اور اس کے نمونے تجزیہ کے لیے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

ایگزن موبل کمپنی نے تصدیق کی کہ کیکڑا ون بلاک میں تیل وگیس کی تلاش کے لیے 11جنوری 2019ء کو شروع کی گئی ڈرلنگ لائنر تک مکمل کرلی گئی ہے ۔

ای این آئی، ایگزن موبل، اوجی ڈی سی ایل اور پی پی ایل اس کنویں میں 25 فیصد کے تناسب سے ملکیت رکھتی ہیں اور اسی تناسب سے چاروں کمپنیوں نے مشترکہ سرمایہ کاری کی ہے ۔ کیکڑا ون بلاک میں تیل وگیس کے تخمینی ذخیرے 9 ٹریلین کیوبک فٹ تک رسائی کے لیے طویل عرصے سے کوششیں جاری تھیں۔ ڈرلنگ کمپنی گیس وتیل کے ذخیرے کی حقیقی مقدار کا تعین کرنے کے لیے 200 میٹر ذخیرے میں رسائی کے بعد ذخیرے سے ملنے والے نمونوں کی ٹیسٹنگ اور تجزیہ کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

عالمی تحقیقاتی ادارے ریسٹیڈ نے کہا ہے کہ پاکستان میں تیل اورگیس کی دریافت3 بڑی ممکنہ دریافتوں میں شامل ہے، سمندر میں کیکڑا ویل سے توانائی وسائل کے روشن امکانات ہیں، کیکڑا ویل سے ڈیڑھ ارب بیرل کے برابر خام تیل اور گیس دریافت ہوسکتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر تحقیق کرنے والے ادارے ریسٹیڈ انرجی کے اعلامیے کے مطابق پاکستانسے سمندر میں تیل اورگیس کی دریافت دنیا کی3 بڑی ممکنہ دریافتوں میں شامل ہے۔