انٹیلی جنس اداروں کی بڑی کامیابی، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیئے ’را‘ کا نیٹ ورک پکڑ لیا،

’را‘ نے گلگت بلتستان میں انتشار پھیلانے کی طویل منصوبہ بندی کی جسے بے نقاب کر کے ناکام بنا دیا گیا، بے نقاب کیئے گئے ’را‘ کے پاکستان دشمن نیٹ ورک کی سنسنی خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

پیر مئی 23:34

انٹیلی جنس اداروں کی بڑی کامیابی، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیئے ..
راولپنڈی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 مئی2019ء) انٹیلی جنس اداروں کی بڑی کامیابی، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیئے ’را‘ کا نیٹ ورک پکڑ لیا، ’را‘ نے گلگت بلتستان میں انتشار پھیلانے کی طویل منصوبہ بندی کی جسے بے نقاب کر کے ناکام بنا دیا گیا، بے نقاب کیئے گئے ’را‘ کے پاکستان دشمن نیٹ ورک کی سنسنی خیز تفصیلات سامنے آ گئیں۔

بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے زیر سرپرستی گلگت بلتستان کی ذیلی قوم پرست تنظیم بلورستان نیشنل فرنٹ حمید گروپ کی آبیاری کی گئی۔ ’را‘ کا ہدف یونیورسٹیوں کے طلبا اور گلگت بلتستان کی نوجوان نسل کو ٹارگٹ کر کے دہشت گردی اور علیحدگی کی تحریک کو ہوا دینا تھا۔ عبدالحمید خان کو عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ متاثر کرنے، گلگت بلتستان میں دہشت گردی کرنے کی سرگرمیوں پر لگایا گیا۔

(جاری ہے)

’را‘ کے اشاروں پر عبدالحمید خان نے عالمی مالیاتی اداروں کو خطوط کے ذریعے گلگت بلتستان و دیگر جگہوں پر چھ مجوزہ ڈیموں کے لئے مالی و تکنیکی مدد فراہم کرنے سے روکنے کی کوششیں کیں۔ چیئرمین بی این ایف (حمید گروپ) عبدالحمید خان آف غذر کو ’را‘ کی جانب سے 1999 میں نیپال لے جایا گیا۔ بعد ازاں عبدالحمید خان کو نیپال سے بھارت منتقل کر دیا گیا، بھارت میں ’را‘ کے ایجنٹ کرنل ارجن اور جوشی نے عبدالحمید خان کو ہینڈل کیا۔

عبدالحمید خان کو دہلی میں تھری اسٹار اپارٹمنٹ میں رکھا گیا، بعد ازاں تین بیٹوں سمیت فیملی کو بھی بھارت منتقل کیا گیا۔ عبدالحمید خان کے بچوں کو مختلف اسکولوں، کالجز میں مہنگی تعلیم دلوائی گئی۔ 1999 سے 2007 اور 2015 سے 2018 تک ’را‘ نے عبدالحمید خان پر گیارہ سالوں میں بھاری سرمایہ کاری کی ۔ عبدالحمید خان کو تمام طرح کی بھارتی شناختی دستاویزات فراہم کی گئیں اور کاروبار کے لئے سہولیات دی گئیں۔

عبدالحمید کے بیٹوں کی تعلیم کو بھارت کے ساتھ یورپ میں بھی اسپانسر کیا گیا۔ 2007 کے بعد عبدالحمید خان کو برسلز منتقل کرایا گیا تا کہ مختلف عالمی فورمز پر پاکستان مخالف تقاریر کر سکے۔ ’را‘ نے بی این ایف (حمید گروپ) کو گلگت بلتستان میں سرگرمیوں کے لئے ایک ارب روپے کے لگ بھگ خطیر رقم بھی فراہم کی۔ ذیلی قوم پرست تنظیم بلورستان ٹائمز میگزین کے ذریعے علیحدگی پسند سوچ کو ہوا دے رہی تھی۔

’را‘ کے سالہا سال سے تشکیل دیئے گئے نیٹ ورک کو ناکام بنانے کے لیئے پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی نے طویل اور صبر آزما منصوبہ بندی کی۔ انٹیلی جنس اداروں نے Pursuit" "Op کے ذریعے بی این ایف کا مقامی نیٹ ورک پکڑا اور ’را‘ کے منصوبے کو ناکام بنایا۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے ذریعے بلورستان نیشنل فرنٹ (حمید گروپ) کا مقامی نیٹ ورک پکڑا گیا۔

انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں بھارتی تعداد میں اسلحہ و ایمونیشن بھی برآمد کیا گیا۔ آپریشن کے دوران بی این ایف کے 14 متحرک کارکن حراست میں لے لئے گئے۔ گلگت بلتستان میں سرگرمیوں کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں بڑی تعداد میں طلباء کو ’را‘ عبدالحمید خان کے ذریعے اسپانسر کر رہی تھی۔ ان سرگرمیوں میں بی این ایف کا اسٹوڈنٹ ونگ بلورستان نیشنل سٹوڈنٹ آرگنائزیشن چیئرمین شیر نادر شاہی کی قیادت میں ملوث تھا۔

شیر نادر شاہی راولپنڈی اور غذر میں مرکزی کردار تھا، عبدالحمید خان ’را‘ سے ہدایات لیتا تھا۔ شیر نادر شاہی بلورستان ٹائمز شائع کرتا تھا، 2016 میں عبدالحمید خان اور ’را‘ کی مدد سے یو اے ای چلا گیا جہاں سے اسے نیپال منتقل کر دیا گیا۔ پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کی بھرپور کوششوں کے ذریعے عبدالحمید خان نے 8فروری 2019 کو غیر مشروط سرنڈر کیا۔ 29 مارچ کو شیر نادر شاہ نے بھی سرنڈر کر دیا۔ شیر نادر شاہ کو یو اے ای سے ’را‘ کی لیڈی ایجنٹ نے شکار کیا اور نیپال لے جایا گیا۔ اس سے پہلے کہ شیر نادر شاہ کو نیپال سے انڈیا لے جایا جاتا، کامیابی سے اسے پاکستان واپس لے آیا گیا۔