مرغ کی وجہ سے ہمسایوں کے درمیان قانونی جنگ چھڑ گئی

Ameen Akbar امین اکبر منگل جون 23:39

مرغ کی وجہ سے ہمسایوں کے درمیان قانونی جنگ چھڑ گئی

موریس  فرنچ کمیون سین-پیری-دولیرون کا ایک قابل فخر مرغا ہے۔ حالیہ مہینوں  میں یہ مرغا راتوں رات مشہور ہو گیا ہے۔ اس مرغے کے صبح سویرے بلند آواز میں  بانگ دینے کی وجہ سے اس کے مالکوں اور ہمسایوں کے بیچ قانونی جنگ چھڑ گئی ہے۔
اس مرغے کی کہانی سے فرانسیسی سوشل میڈیا اور اخبارات میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب ایک مقامی خاندان پر صرف اس لیے مقدمہ کردیا گیا کہ اُن کا ایک مرغا بلند آواز میں بانگ دیتا تھا، جس سے ہمسائے ڈسٹرب ہوتے تھے۔

موریس کے مالکان کا کہنا ہے کہ وہ ایک دیہاتی ماحول میں رہتے ہیں، جہاں مرغ کا بانگ دینا روز مرہ کی زندگی کا حصہ ہے، لیکن سیاحوں  کی آمد اور  عارضی  رہائش کی وجہ سے مرغ کی بانگ پرسکون ماحول میں  شور محسوس ہوتی ہے۔

(جاری ہے)


موریس کے مالکان اسے صبح ساڑھے آٹھ بجے تک ڈربے میں بند رکھتے ہیں، اپنی طرف سے وہ زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتے تھے۔ چونکہ موریس مرغا ہے، اس لیے اسے بانگ دینی  ہی ہوتی ہے اور ہمسایوں کے پاس بھی اس مسئلے کا کوئی  حل نہیں اس لیے انہوں نےعلاقائی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔


موریس کی مالکن کورنی فیسیاؤ نے بتایا کہ  اُن کی مشکلات 2017ء میں شروع ہوئیں جب کسی نے انہیں مرغی خانہ ہٹانے کا نوٹس بھیجا۔ایک صبح نوٹس بھیجنے والا کورنی کے پاس آیا اور تھوڑے تُرش لہجے میں کہا کہ انہوں نے مرغے کے بارے میں کیا منصوبہ بنایا ہے۔ یہیں سے یہ مسئلہ بڑھا۔کورنی نے مسئلے کا حل یہی سمجھا کہ مرغیوں کو دیر تک ڈربے میں رکھے لیکن اس طرح اُن کے ہمسائے مطمئن نہیں ہوئے۔

ہمسایوں نے مرغ کے تیز بانگ دینے پر ٹاؤن ہال میں شکایت کر دی۔ اپریل 2018ء میں ایک بیلف ان کے گھر آنے لگا تاکہ مرغ کے بانگ دینے کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ بیلف تین مختلف مواقع پر آیا۔ ان تین میں سے دو موقع پر بیلف نے  مرغ کی آواز ریکارڈ کی۔اس کے چند ماہ بعد کورنی کو معلوم ہوا کہ اُن پر مقدمہ کر دیا گیا ہے۔
کورنی کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں خود کو درست سمجھتی ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے مرغ کا تحفظ کرنا ہے۔یہ سلسلہ شروع ہوا تو آج مرغ ہے، کل کو گدھے  یا  مینڈک بھی ہو سکتے ہیں۔ کورنی نے بتایا کہ علاقے میں چھٹیاں گزارنے کے لیے آنے والے ہی مسئلہ کرتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں پر ہیں۔ کورنی نے بتایا کہ سیاحوں کو خوش آمدید لیکن وہ  ہم پر اپنے اصول لاگو نہیں کر سکتے۔
سین-پیری-دولیرون کے میئر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس مسئلے کو قانونی طور پر سلجھانے کی کوشش کی ہے ۔

اُن کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی طور پر چاہتے ہیں کہ علاقے کا دیہاتی ماحول برقرار رہے اور لوگ مرغیاں پال سکیں لیکن  مدعیان سمجھتے ہیں کہ سین-پیری-دولیرون ایک ٹاؤن ہے۔ابھی تک چونکہ مسئلہ حل نہیں ہوا تھا، اس لیے یہ عدالت میں ہے۔6 جون کو ہونے والی پیشی پر کورنی یا موریس پیش نہیں ہوئے تھے، اس لیے  مقدمہ 4 جولائی تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ کورنی کو موریس کے خلاف شکایت درج کرانے  والے کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہے۔ وہ اپنے سب ہمسایوں کے پاس گئیں لیکن سب نے ہی شکایت کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں موریس کے بانگ دینے سے کوئی مسئلہ نہیں۔