اسلامی فوج کے سربراہ راحیل شریف کی ملازمت میں تشوسیع

راحیل شریف نے جنوری 2017 میں سعودی عرب میں قائم ہونے والے اسلامی اتحاد کی کمان سنبھالی تھی اب ان کی مدت ملازمت میں 2020 تک توسیع کردی گئی

منگل جون 23:36

اسلامی فوج کے سربراہ راحیل شریف کی ملازمت میں تشوسیع
ریاض/اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 18 جون2019ء) سعودی عرب میں اسلامی اتحادی فوج کی سربراہی کرنے والے پاکستان کے سابق آرمی چیف راحیل شریف کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کردی گئی ہے۔راحیل شریف نے 29 نومبر 2016 کو ریٹائر ہونے کے بعد جنوری 2017 میں سعودی عرب میں قائم ہونے والے اسلامی اتحاد کی کمان سنبھالی تھی اور اب ان کی مدت ملازمت میں 2020 تک توسیع کردی گئی ہے۔

راحیل شریف کو سعودی عرب میں ملازمت کے لیے وزرات دفاع اور جی ایچ کیو کی جانب سے این او سی جاری کیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے 15 دسمبر2018 کو اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ قانون کے تحت سابق سرکاری ملازم کو صرف وفاقی حکومت ہی این او سی جاری کرسکتی ہے، اگر کابینہ نے اس معاملے پر فیصلہ نہ کیا تو ایک ماہ بعد سابق آرمی چیف کا این او سی غیرقانونی قرار پائے گا۔

(جاری ہے)

بعد ازاں 18 جنوری 2019 کو وفاقی حکومت نے جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو پاکستان سے باہر ملازمت کے لیے این او سی جاری کردیا تھا۔سعودی عرب نے 2015 میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 34 اسلامی ممالک کا ایک فوجی اتحاد تشکیل دیا تھا جس میں مصر، قطر اور عرب امارات جیسے کئی عرب ممالک کے ساتھ ساتھ ترکی، ملیشیا اور افریقی ممالک بھی شامل ہیں۔اس اتحاد میں شریک اسلامی ممالک کے درمیان باہمی روابط اور ملٹری آپریشن کی غرض سے اس کا مشترکہ آپریشن سینٹر سعودی عرب کے شہر ریاض میں بنایا گیا ہے۔پاکستانی فوج کے سابق سربراہ اسلامی فوج کے پہلے سربراہ ہیں جن کی مدت ملازت میں مزید توسیع کردی گئی ہے۔ اس فوج کی کمان 2020 تک راحیل شریف کے پاس رہے گی۔