راولپنڈی پولیس نے نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنانے والا پیر گرفتارکر لیا

اتوار اگست 20:20

راولپنڈی 18اگست(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 اگست2019ء) راولپنڈی پولیس نے نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنانے والے پیر گرفتارکر لیا ۔پولیس ترجمان کے مطابق تھانہ مری کے علاقہ میں گزشتہ مہینے ایک نوجوان وقاص علی کو اس کے پیر عظمت نے اپنے ساتھیوں سمیت بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا جس سے نوجوان جاں بحق ہو گیا، قتل کا مقدمہ تھانہ مری میں درج کیا گیا،سٹی پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے اس مقدمہ کی پراگرس کے حوالے سے پولیس افسران کو طلب کیا ۔

(جاری ہے)

ایس پی صدر رائے مظہر اقبال نے سی پی او کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملزم پیر عظمت پر الزام تھا کہ اس نے خواتین مریدوں کے کمرے میں جانے پر اپنے ایک مرید نوجوان وقاص علی کو دیگر ملزمان کے ہمراہ مل کر بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ جاں بحق ہو گیا ،مقدمہ قتل میں پیر عظمت کو بھی مقتول پارٹی کی طرف سے نامزد کیا گیا،سی پی او کو بتایا کہ ملزم پیر عظمت کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے اس گرفتاری کے بعد اس مقدمہ کے تمام ملزمان گرفتار کر لئے گئے ہیں،سی پی او نے ایس پی صدر رائے مظہر اقبال کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ جس معاشرے میں قانون کی بالادستی ہو وہاں پر کسی کا نجی ٹارچر سیل بنانا قانون کو چیلنج کرنے اور قانون کی رٹ کو نہ ماننے کے مترادف ہے ،یہ سوچ کر انسانیت کانپ جاتی ہے کہ کسی انسان کو ٹارچر کر کے بے پناہ تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ،ایسا کرنے والے کسی رو رعائت کے مستحق نہیں ہوتے،انہوں نے کہا کہ جو لوگ بذعم خود کسی تکبر کا شکار ہوتے ہیں انہیں کے ہاتھوں ایسے انسانیت سوز واقعات ہوتے ہیں،سی پی او نے کہا کہ انسانوں کو کسی بھی طریقے سے قتل کرنے والوں کو اول و آخر ٹھکانہ جیل تھا اور جیل ہی رہے گا،انہوں نے ایس پی کو ہدایت کی کہ وہ اس مقدمہ کی تفتیش کی خود نگرانی کریں تاکہ ملزمان کے خلاف اس قدر مضبوط ثبوت مثل مقدمہ کا حصہ بنیں کہ عدالت سے ملزمان کو قانون کے مطابق ایسی سزا ملے جو معاشرے میں عبرت کا نشان بن جائے تاکہ اس نوعیت کا کوئی اور واقعہ رونما نہ ہو،سی پی او نے واضح کیا کہ مقدمہ کی تفتیش میں اس بات کو ہر حوالے سے پیش نظر رکھا جائے کہ کوئی گناہ گار چالان ہونے سے بچ نہ جائے اور کوئی بے گناہ چالان نہ ہو سکے۔