ایف بی آر سے مذاکرات کے دوسرے دور میں بھی توقعات کے مطابق پیشرفت نہیںہو سکی ‘ اشرف بھٹی

تاجر پہلے ہی مہنگے یوٹیلٹی بلوں سمیت ٹیکسز کی ادائیگی کر رہے ہیں ،مزید بوجھ نہ ڈالا جائے ‘مرکزی صدر آل پاکستان انجمن تاجران

ہفتہ ستمبر 13:16

ایف بی آر سے مذاکرات کے دوسرے دور میں بھی توقعات کے مطابق پیشرفت نہیںہو ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 ستمبر2019ء) آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آ ف ریو نیو سے مذاکرات کے دوسرے دور میں بھی توقعات کے مطابق پیشرفت نہیںہو سکی ،تاجرنہ صرف معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے حق میںہیں بلکہ ٹیکس بھی دینا چاہتے ہیں اس لئے حکومت کوئی درمیانہ راستہ نکالے ۔ان خیالات کا اظہارا نہوںنے اپنے دفتر میںتاجروںکے نمائندہ وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

اشرف بھٹی نے وفد کو ایف بی آر کے حکام سے فکسڈٹیکس اور شناختی کارڈ کی شرط سمیت دیگر نکات پر ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا ۔انہوںنے کہا کہ جو سیکٹرز سیلز ٹیکس دینے کی استطاعت رکھتے ہیں حکومت ان سے ضرور سیلز ٹیکس وصول کرے لیکن ریٹیلرز اس ٹیکس کی ادائیگی سکت نہیں رکھتے ۔

(جاری ہے)

موجودہ حالات میں تاجروں کا کاروبار مزید سکڑ گیا ہے جس کی وجہ سے ملازمین کی تنخواہیں اور یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی کرنا بھی مشکل ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس سسٹم میں تبدیلی لائے اورہر شعبے کیلئے کیٹگری ہونی چاہیے ۔ حکومت کے اقدامات سے پہلے تاجر تنظیموں کی جانب سے پیشکش کی جا چکی تھی کہ حکومت مارکیٹوں کا سروے کرے ہم تعاون کرینگے اورمناسب شرح سے فکسڈٹیکس لگایا جائے تاکہ اس کی آسانی سے ادائیگی ہو سکے ۔ انہوں نے کہاکہ تاجر پہلے ہی مہنگے یوٹیلٹی بلوں سمیت ٹیکسز کی ادائیگی کر رہے ہیں اگر حکومت مزید بوجھ ڈالے گی تو کاروبار کرنا مشکل ہو جائے گا جو معیشت کیلئے نیک شگون نہیں ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ توقع ہے کہ ایف بی آر کے حکام سے مذاکرات کے اگلے دور میں مثبت پیشرفت ہو گی اور تاجروں کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے مطالبات کو تسلیم کرنے کیلئے بڑے دل کا مظاہرہ کیا جائے گا۔