نایاب بیماری کے باعث ایک خاتون اپنی رگوں میں دوڑتے خون کی آواز سن سکتی ہیں

Ameen Akbar امین اکبر منگل ستمبر 23:48

نایاب بیماری کے باعث ایک خاتون اپنی رگوں میں دوڑتے خون کی آواز سن سکتی ..

سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والی 32  سالہ جیما کائرنز  کو یاد ہی نہیں کہ انہوں نے آخری بار مکمل خاموشی کو کب محسوس کیا تھا۔اگر بیرونی ماحول میں شور نہ بھی ہوتو  وہ اپنے جسم میں دوڑتے ہوئے خون کی آوازیں سنتی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ وہ اپنی آنکھوں کی حرکت کی آوازیں بھی سن سکتی ہیں۔
جہاں تک جیما کی یادداشت کام کرتی ہے،  انہیں یہی یاد ہے کہ اُن کے جسم سے کئی طرح کی آوازیں آتی ہیں۔

جیما اسے معمول کا حصہ سمجھتی تھی لیکن لڑکپن میں ایک بار انہوں نے اپنی ماں کو اس بارے میں بتایا تو انہیں  معلوم ہوا کہ سب کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔ تین سال پہلے تک ڈاکٹروں کو ان کی بیماری سمجھ ہی نہیں  آئی تھی۔ ڈاکٹر انہیں کان اور نزلے کی شکایات کی ادویات دیتے رہے ، جس کا انہیں کوئی افاقہ نہیں ہوا۔

(جاری ہے)

2016ء میں جیما گلاسکو منتقل ہو گئیں۔

  یہاں ایک سپیشلسٹ ڈاکٹر نے انہیں bilateral superior semicircular canal dehiscence تشخیص کی۔
اس نایاب بیماری کا مطلب ہے کہ جیما کے دونوں کانوں  کی نالیوں  میں ایک چھوٹی کنپٹی کی  ہڈی نہیں تھی۔ ا ن ہڈیوں کے نہ ہونے کا اثر اُن کی سماعت اور چلتے ہوئے ان کے توازن پر پڑتا  ہے۔ڈاکٹروں نے انہیں تجویز دی  تھی کہ انہیں فوراً ہی سرجری کرا کر اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔

پچھلے ستمبر میں  اُن کے دائیں کان کا آپریشن ہوچکا ہے۔  لیکن انہیں  دوسرے کام کے آپریشن کے لیے اگلے ماہ تک انتظار کرنا پڑے گا۔ دوسرے کان کے کامیاب آپریشن کے بعد وہ زندگی میں پہلی بار خاموشی کو محسوس کر سکیں گی۔
جیما نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے انہیں ایک وقت میں ایک کان کا آپریشن کرنے کا کہا تھا۔ دونوں کانوں کا ایک ساتھ آپریشن کرنے سے انہیں توازن کے  مسائل کا  سامنا کرنا پڑتا۔


بچپن سے لیکر جوانی  تک ڈاکٹر انہیں کچھ پاگل سمجھتے رہے ہیں۔ وہ سب کو بتاتی کہ وہ اپنے خون کی گردش کی آواز،  اپنی آنکھوں کی حرکت کی آواز اور اپنے دل کی دھڑکن کی آواز سن سکتی ہیں لیکن وہ ان آوازوں کو بیان کرنےکے لیے مناسب الفاظ نہیں ڈھونڈ پاتی تھیں۔اپنی اس حالت کے باعث وہ دوڑ بھی نہیں پاتی تھیں، کیونکہ دوڑنے سے اُنکا دل تیزی سے دھڑکتا اور وہ  دھڑکن کی آوازوں سے پریشان ہو جاتیں۔
جیما کے آپریشن میں اُن کی سماعت کے متاثر ہونے کا خدشہ تھا لیکن انہوں نے اس کے باوجود بھی اپنا آپریشن کرایا۔ اکتوبر میں دوسرے کان کے آپریشن کے بعد وہ خاموشی کو بھی محسوس کر سکیں گی۔

متعلقہ عنوان :