احساس پروگرام کے تحت غریب اور نادار افراد کی فلاح و بہبود کے مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں، ڈاکٹر ثانیہ نشتر

بدھ ستمبر 18:33

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2019ء) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و غربت کا خاتمہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے غریب اور نادار افراد کی فلاح و بہبود کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’احساس‘ پروگرام وہ اہم ذریعہ ہے جس کے تحت اس مقصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات بدھ کو لاہور میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت پنجاب کابینہ اجلاس میں احساس پروگرام سے متعلق صوبائی کابینہ کو تیسری بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و غربت کا خاتمہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو مدعو کیا گیا تاکہ وہ پنجاب کابینہ کو وفاقی حکومت کے پروگرام احساس سے متعلق بریفنگ دیں۔

(جاری ہے)

یہ احساس پر تیسری صوبائی بریفنگ تھی ، اس سے قبل گزشتہ دس دنوں کے دوران سندھ اور بلوچستان میں بھی احساس پر بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر پنجاب کے تمام صوبائی وزراء، وزیر اعلی پنجاب کے مشیر، پنجاب کے چیف سیکرٹری،وزیر اعلی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری، حکومت پنجاب کے فنانس ، انفامیشن، کلچر اورلاء ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹریز، چیئرمین پلانگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب، سینئر میمبر بورڈ آف ریونیو پنجاب، انسپکٹر جنرل آف پنجاب پولیس اور وفاقی سیکرٹری برائے غربت کا خاتمہ اور سماجی تحفظ ڈویژن بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وزیر اعظم پاکستان کے غریب اور نادار افراد کی فلاح و بہبود کے عزم پر زور دیا اور کہا کہ احساس پروگرام وہ اہم ذریعہ ہے جس کے تحت اس مقصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ کابینہ نے وفاقی احساس اور پنجاب کے مابین موجودہ اشتراک کو مضبوط بنانے کیلئے گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ احساس ڈویلپمنٹ فریم ورک کے مرحلے کے دوران جنوری مارچ 2019میں پاورٹی ایلیویشن کوآرڈینشن کونسل کے اجلاس میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے فعال احساس۔

پنجاب شراکت داری کو بے حد سراہا تھا۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ احساس نے حکومت پنجاب اور حکومت خیبر پختونخواہ کیساتھ نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام کیلئے بھی اشتراک کیا ہے جس کا افتتاح 5جولائی 2019کو وزیر اعظم نے کیا( 4سالوں میں 16.8ملین افراد تک رسائی کا 42ارب روپے کا منصوبہ)۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے دیگر پروگرام بھی ہیں جن میں احساس کے ذیلی پروگرام کفالت اور تحفظ، قومی سماجی و معاشی سروے 2019اور ون ونڈو احساس شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں وفاقی حکومت صوبائی حکومت سے وفاقی سماجی و معاشی اعدادو شمارتک رسائی کیلئے کوئی فیس نہیں لے گی اور اس حوالے سے پہلے سے ہی پالیسی سازی کی جا چکی ہے۔ قومی سماجی و معاشی رجسٹری کی کلسٹر کی بنیاد پر موجودہ معلومات کا تفصیلی تبادلہ کیا جاچکا ہے۔ ڈاکٹر ثانیہ نے کہا کہ سروے کی شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔

بعد ازاں، آخر میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا صوبوں کو احساس کی گورننس اور ایمانداری پالیسی پر عملدرآمد کی ضرورت ہے جو بہت اہم ہے اور اس پروگرام کی کامیابی کیلئے کلیدی کردار ادا کرے گی۔ وزیر اعلی پنجاب نے احساس کی تکمیل کے عمل ، احساس گورننس اور ایمانداری کی پالیسی کو بے سراہا اور مضبوط اشتراک کیلئے گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔