پی ٹی آئی کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا مقامی حکومتوں کا نیا نظام حقیقی معنوں میں انقلاب برپا کریگا،وزیر اعظم

مقامی حکومتیں قومی قیادت کی نرسریاں ثابت ہوں گی، تحصیل اور میونسپل سطح پر براہ راست انتخاب سے جہاں عوام الناس کو اہل اورقابل نمائندگان منتخب کرنے کے مواقع میسر آئیں گے وہاں سیاسی جماعتیں بھی مضبوط ہوں گی، عمران خان کااجلا س سے خطاب

بدھ ستمبر 19:02

پی ٹی آئی کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا مقامی حکومتوں کا نیا نظام ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 ستمبر2019ء) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا مقامی حکومتوں کا نیا نظام حقیقی معنوں میں انقلاب برپا کریگا،مقامی حکومتیں قومی قیادت کی نرسریاں ثابت ہوں گی، تحصیل اور میونسپل سطح پر براہ راست انتخاب سے جہاں عوام الناس کو اہل اورقابل نمائندگان منتخب کرنے کے مواقع میسر آئیں گے وہاں سیاسی جماعتیں بھی مضبوط ہوں گی۔

بدھ کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مقامی حکومتوں کے نئے نظام سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں وزیر دفاع پرویز خٹک، گورنر خیبر پختونخواہ شاہ فرمان، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان، ممبرقومی اسمبلی اسد عمر، صوبائی وزیرِ خزانہ کے پی تیمور سلیم جھگڑا، صوبائی وزیر برائے لوکل گورنمنٹ شہرام خان تراکئی و سینئر افسران شریک ہوئے ۔

(جاری ہے)

اجلاس میں پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے مقامی حکومتوں کے نئے نظام پر عمل درآمد کے حوالے سے تبادلہ خیال کیاگیا ۔ اجلاس میں شرکاء کو صوبہ خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں متعارف کرائے جانے والے مقامی حکومتوں کے نئے نظام کے خد وخال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا مقامی حکومتوں کا نیا نظام حقیقی معنوں میں انقلاب برپا کرے گا۔

انہوںنے کہاکہ نئے نظام کے تحت مقامی طور پر منتخب نمائندگان کو بااختیار بنایا گیا ہے تاکہ انہیں مقامی سطح کے مسائل حل کرنے اور اپنے علاقوں کی تعمیر و ترقی میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔ انہوںنے کہاکہ مقامی حکومتیں قومی قیادت کی نرسریاں ثابت ہوں گی۔وزیر اعظم نے کہاکہ ماضی کے مقابلے میں نئے نظام کے تحت ترقیاتی فنڈز کی مقامی سطح پر منتقلی سے نہ صرف عوام کے بنیادی مسائل کا حل ممکن ہو گا بلکہ ان فنڈز کی امتیازی تقسیم اور ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد پر مخصوص علاقوں میں استعمال کی روش کی بھی موثر طور پر روک تھام ممکن ہوگی۔

انہوںنے کہاکہ تحصیل اور میونسپل سطح پر براہ راست انتخاب سے جہاں عوام الناس کو اہل اورقابل نمائندگان منتخب کرنے کے مواقع میسر آئیں گے وہاں سیاسی جماعتیں بھی مضبوط ہوں گی ، اسی طرح بااختیار منتخب نمائندگان بلا رکاوٹ اپنی بھرپور توانائیاں اپنے علاقوں کی تعمیر و ترقی اور عوام کے مسائل حل کرنے میں صرف کر سکیں گے۔