حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا

سردار رضا نے حکومت کی جانب سے مقرر کئے گئے نئے الیکشن کمیشن اراکین سے حلف نہیں لیا تھا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات ستمبر 10:32

حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 ستمبر 2019ء) : حکومت نے چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کے لیے قانونی مشاورت بھی مکمل ہوگئی۔ حکومتی موقف کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے سندھ اور بلوچستان کے اراکین سے حلف لینے سے انکار کیا۔

حکومت کی جانب سے مقرر اراکین سے حلف نہ لینا آئین کی خلاف ورزی ہے، آئین کی خلاف ورزی کے بعد سردار رضا چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے موزوں نہیں۔ حکومتی ریفرنس میں سردار رضا کو عہدے سے ہٹانے کی استدعا کی جائے گی ۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ممبران کی تقرری کا معاملہ اُس وقت گھمبیر صورتحال اختیار کرگیا تھا جب چیف الیکشن کمشنر نے نئے ممبران سے حلف لینے سے انکار کردیا تھا۔

(جاری ہے)

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ نئے ممبران کی تقرری آئین کی خلاف ورزی ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے وزارت پارلیمانی امور کو خط لکھ کر باضابطہ طور پر معاملے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئے ارکان کی تقرری آئین کے آرٹیکل 213 اور 214 کے مطابق نہیں ہوئی۔ وفاقی حکومت نے 7 ماہ بعد کل الیکشن کمیشن کے ممبر سندھ اور بلوچستان کی تقرری کی تاہم اپوزیشن نے بھی دونوں تقرریاں مسترد کردی تھیں۔

نئے ارکان میں سندھ سے خالد محمود صدیقی اور بلوچستان سے منیر احمد کاکڑ شامل تھے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری کے بعد وزارت پارلیمانی امور نے ان کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا تھا لیکن چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان نے دونوں ممبران سے حلف لینے سے صاف انکار کر دیا تھا ۔جس کے بعد اب حکومت نے اس معاملے کو بنیاد بنا کر چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔