سرکاری حج پر پابندی کی سفارش

حج اور عمرہ اپنے پیسوں پر ہوتا ہے،سرکاری خرچے پر ملازمین کو حج کرانے کی پالیسی کوختم کیا جائے۔ پی اے سی کی سفارش

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ ستمبر 15:07

سرکاری حج پر پابندی کی سفارش
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 13 ستمبر 2019ء) : پی اے سی نے سرکاری حج پر پابندی کی سفارش کر دی۔قومی اخبار کی رپورٹ کی پارلیمنٹ کی ذیلی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سرکاری خرچے پر ملازمین کو حج کی پالیسی ختم کرنے کی سفارش کر دی ہے۔جمعرات کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر عالم خان کی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں وزارت توانائی کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔

سیکرٹری توانائی نے کمیٹی کو بتایا کہ محکمہ کرپشن اور چوری کے خلاف نبرد آزما ہے۔چئیرمین کمیٹی نے کمیٹی کی تمام ہدایات ہر عمل درآمد سے متعتلق 7 دنوں میں جواط طلب کر لیا۔آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ نیسپاک کے 23 ملازمین کو حج پر بھیجا گیا جن پر 72 لاکھ کا خرچ آیا۔جس پر کمیٹی نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔

(جاری ہے)

کنوینر کمیٹی نور عالم خان نے کہا حج اور عمرہ اپنے پیسوں پر ہوتا ہے۔

سرکاری خرچے پر ملازمین کو حج کرانے کی پالیسی کوختم کیا جائے۔خیال رہے کہ حج اخراجات میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ گزشتہ سال اس مذہبی فریضے کو ادا کرنے میں 2 لاکھ 85 ہزار روپے کے اخراجات سامنے آئے تھے جبکہ اس مرتبہ وہی حج اسوا چار لاکھ روپے میں ہوا۔اسکی بنیادی طور پر چار وجوہات سامنے آئی تھیں ۔پہلی وجہ ڈالر کا مہنگا ہو جانا ہے۔گزشتہ سال کی نسبت اس سال ڈالر کی قمیت میں 33 سے زائد فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ریال کی قیمتیں بھی بڑھ چکی ہیں اور حج کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب سعودی حکومت کی جانب سے بھی ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔تیسری وجہ یہ ہے کہ اس مرتبہ حج پر جانے والوں کے لیے پی آئی اے اور سعودی ائیرلائن نے 18 سے 20 ہزار روپے مہنگا ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا تھا جس کی بنیادی وجہ ڈالر کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔