تیل تنصیبات پر حملوں اور 2 روز کی خاموشی کے بعد سعودی عرب کا ہنگامی فیصلہ

او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا، اسرائیلی وزیراعظم کے جارح بیانات اور سودی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا جائے گا

muhammad ali محمد علی پیر ستمبر 22:01

تیل تنصیبات پر حملوں اور 2 روز کی خاموشی کے بعد سعودی عرب کا ہنگامی فیصلہ
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،16ستمبر 2019ء ) تیل تنصیبات پر حملوں اور 2 روز کی خاموشی کے بعد سعودی عرب کا ہنگامی فیصلہ، او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا، اسرائیلی وزیراعظم کے جارح بیانات اور سودی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کی خصوصی درخواست پر اسلامی ممالک کی سب سے بڑی تنظیم او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا غیر معمولی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم کے غرب اردن پر قبضہ کرنے کے اعلانات اور سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

(جاری ہے)

اس اجلاس کے دوران اہم فیصلے کیے جانے کا بھی امکان ہے۔ اس اجلاس کو سعودی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملے کے تناظر میں اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب میں آرامکو کی تیل تنصیبات پر ہفتہ کے روز ہونے والے ڈرون حملوں کے نتیجے میں ضائع ہونے والے تیل کا ایک تہائی بچا لیا گیا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کی خبر میں بتایا گیا ہی کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں بقیق کی تیل تنصیبات سے حاصل ہونے والی کُل پیداوار کا نصف معطل ہو کر رہا گیا تھا، جو عالمی منڈی کا چھ فیصد بنتا ہے۔

ان سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے باعث آج عالمی تیل منڈی میں کاروبار کا آغاز ہوتے ہی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگلے چند روز میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ جس کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکی اخبار کے مطابق خام تیل کی صنعت سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے پاس بہت سا تیل ذخیرہ شدہ ہے اس لیے فی الحال سعودی عرب سے تیل کی سپلائی میں کوئی زیادہ کمی نہیں ہونے جا رہی ہے۔

جبکہ امریکی حکام نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک سعودی تنصیبات اپنی پیداوار مکمل طور پر بحال نہ کر لیں، عالمی تیل منڈی میں تیل کی سپلائی میں کسی قسم کی کمی نہ ہونے پائے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ارامکو تیل کی ضائع ہونے والی پیداوار کو جلد بحال کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تفصیلی رپورٹ آئندہ 48 گھنٹوں میں سامنے آئے گی۔