Live Updates

ہمارا راستہ روکا گیا تو پورا ملک جام کردیں گے

ہمارا دھرنا ناجائز حکومت کے خلاف ہے، ن لیگ سے مشاورت کی وجہ سے 16 سے 31 اکتوبرکے مابین دھرنے کا اعلان کریں گے: سربراہ جمیعت علمائے اسلام ف

جمعرات ستمبر 00:01

ہمارا راستہ روکا گیا تو پورا ملک جام کردیں گے
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 ستمبر2019ء) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ ہمارا راستہ روکا گیا تو پورا ملک جام کردیں گے، پی ٹی آئی اورطاہرالقادری کادھرنا جائز حکومت اور ہمارا دھرنا ناجائز حکومت کے خلاف ہے، خورشید شاہ کی گرفتاری احتساب نہیں سیاسی ہے،کرتاپورہ پر بات ہوسکتی ہے تو کشمیر پر کیوں نہیں ہوسکتی ، ن لیگ سے مشاورت کی وجہ سے 16 سے 31 اکتوبرکے مابین دھرنے کا اعلان کریں گے،سعودی آئل فیلڈ پر حملے کی مذمت کرتے ہیں ۔

سربراہ جے یو آئی (ف)نے یہاں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی مارچ کیلئے قائم کمیٹیاں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں ،مجلس عاملہ نے تمام کمیٹیوں کو جلد روابط مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ،آزادی مارچ کے روٹس کا تعین کرنے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں ،راستے کی مشکلات حل کرنے کیلئے مرکزی مانیٹرنگ سیل قائم کر رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ یکم سے 15 اکتوبر کے درمیان آزادی مارچ کرنا چاہتے تھے ، سولہ سے 31 اکتوبر کے درمیان ن لیگ کی مشاورت سے آزادی مارچ کی تاریخ کا ترین کرینگے،سیاسی جماعتیں ہماری تیاریوں پر اعتماد کریں ؂انہوںنے کہاکہ سعودی عرب کی آئل فیلڈ پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔سعودی عرب کو یقین دلاتے ہیں ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے ،ریاستی اداروں سے کوئی تصادم نہیں چاہتے، ہم پرامن رہیں گے ،انشاء اللہ تصادم کی کوئی نوبت نہیں آئے گی ،ادارے بھی نااہل حکومت کی پشت پناہی نہ کریں ،خورشدید شاہ کی گرفتاری بھی سیاسی ہے ،خورشید شاہ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں، یہ احتساب نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر ہمارا راستہ روکا گیا تو ملک جام ہوجائے گا،پی ٹی آئی کا دھرنا جائز حکومت کیخلاف تھا ہمارا ناجائز حکومت کیخلاف ہوگا ،کرتارپور پر انڈیا سے بات ہو سکتی ہے تو کشمیر پر کیوں نہیں۔انہوںنے کہاکہ اسلام آباد آزادی مارچ کی چھ کمیٹیاں کام جاری رکھے ہوئے ہیں ،مرکزی مجلس عاملہ نے جلد روابط مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ،تمام صوبوں کے امراء و نظماء کی خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی اور مرکزی سطح پر بھی خصوصی سیل قائم کیا جارہا ہے ،ہمارا ارادہ یکم تا 15 اکتوبر کا وقت طے کرینگے البتہ ن لیگ سے مشاورت کی وجہ سے 16 سے 31 اکتوبر تک کرینگے ،پورا سال 15 ملین مارچ کئے اور کارکنوں نے پورا سال محنت کی، سیاسی جماعتوں سے اپیل کہ وہ ہم پر اعتماد کرے ،سعودی عرب میں ارمکو پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہیں،مشکل وقت میں سعودیہ کے ساتھ ہیں ۔

انہوںنے کہاکہ ریاستی اداروں سے کوئی تصادم نہیں چاہتے ہم مکمل طور پر پرامن رہیں گے۔ انہوںنے کہاکہ ،ناجائز اور نااہل حکمرانوں کی پشت پناہی ریاستی ادارے بھی نہ کریں ،تصادم کی کوئی نوبت نہیں آئیگی حالات کو پرامن حالات رکھنے کی یقین دہانی کراتے ہیں،ہمارے کارکنان اپنی فنڈنگ خود کررہے ہیں اسی کے ساتھ اس مارچ کو کامیاب بنائیں گے پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کا دھرنا جائز حکومت کے خلاف اور ہمارا ناجائز حکومت کے خلاف دھرنا واضح فرق ہے ،مولانا فضل الرحمن نے دھمکی دی ہے کہ اگر ہمارے راستے بند ہوئے تو پورا ملک بند ہو جائیگا۔

سعودی عرب نے دھرنے رکوانے کیلئے رابطہ کیا ہی کے سوال پر انہوں نے کہاکہ یہ باتیں سوشل میڈیا پر ہیں ایسی کوئی بات نہیں،مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پی ٹی آئی،عوامی تحریک کے مارچ جائز حکومت کے خلاف تھے اور ہمارا مارچ ناجائز حکومت کے خلاف ہے،ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ آرمی چیف اور سپریم کورٹ کی ثالثی کے سوال غیر سنجیدہ ہیں اس طرح کے غیر سنجیدہ سوال کا جواب نہیں دینا چاہتا۔
مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کا اعلان سے متعلق تازہ ترین معلومات