سپریم کورٹ نے دہشت گردی کے الزام میں عمرقید کے ملزم کو بری کر دیا

جمعرات ستمبر 15:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 ستمبر2019ء) سپریم کورٹ نے دہشت گردی کے الزام میں عمرقید کے ملزم کو بری کر دیا۔ جمعرات کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔سپریم کورٹ نے ملزم افضل ملک کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے ملزم افضل ملک کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔2013 میں افضل ملک کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ملزم کی رہائش گاہ سے بڑی مقدار میں بارودی مواد برامد کیا گیا تھا۔ ملزم سے گولہ بارود، ڈیوائسز، ہینڈ گرنیٹ، ریموٹ کنٹرول، خودکش جیکٹ اور دیگر بارودی مواد برآمد کیا گیا تھا۔ وکلاء نے ویڈیو لنک کے ذریعے پشاور رجسٹری سے دلائل دئیے۔ سر کاری وکیل نے کہاکہ پولیس نے ریٹ کر کے ملزم کی راہشگاہ سے ساری چیزیں برآمد کیں۔

(جاری ہے)

سر کاری وکیل نے کہاکہ ملزم کا تعلق کشمیر کی کسی جہادی تنظیم سے تھا، وکیل ملزم نے کہاکہ بارودی مواد کا تعلق ملزم کے ساتھ ثابت نہیں ہو سکا۔

چیف جسٹس نے کہاکہ یہ سرکار دیکھ رہی ہے ناں کی انہوں نے اتنا بڑا دہشت گرد پکڑا آج انکی ناہلی کی وجہ سے بری ہو رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ گولہ بارود برامد ہونے کے باوجود سرکار کی ناہلی کی وجہ سے ثابت نہیں ہو سکا۔چیف جسٹس نے کہاکہ بارودی مواد برامد کرنے کے بعد اسے فوری طور پر سیل نہیں کیا گیا۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔عدالت نے کہاکہ برآمد کیا گیا بارودی مواد 19 دن بعد متعلقہ پولیس سٹیشن کے محرر کے حوالے کیا گیا۔عدالت نے کہاکہ بارودی مواد سیل نہ ہونے کی وجہ سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکا۔