ایم این اے رمیشن کمار نے اپنی ہی حکومت پر تنقید شروع کردی

کتے کی ویکسین نہیں توہیلتھ کارڈ کیا کرنا ہے؟ ہیلتھ کارڈ میں ایسے ہسپتال شامل کیے جا رہے ہیں جن کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہے، صحت اور تعلیم کے فنڈز نہیں ہیں۔میڈیا سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ ستمبر 16:57

ایم این اے رمیشن کمار نے اپنی ہی حکومت پر تنقید شروع کردی
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔20 ستمبر2019ء) تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی رمیشن کمار نے اپنی ہی حکومت پر تنقید شروع کردی، انہوں نے کہا کہ کتے کی ویکسین نہیں توہیلتھ کارڈ کیا کرنا ہے؟ ہیلتھ کارڈ میں ایسے ہسپتال شامل کیے جا رہے ہیں جن کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہے، صحت اور تعلیم کے فنڈز نہیں ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کتے کے کاٹنے کی ویکسین نہیں ہے توہیلتھ کارڈ کو کیا کرنا ہے؟ ہیلتھ کارڈ میں ایسے ہسپتال شامل کیے جا رہے ہیں جن کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔

صحت اور تعلیم کے فنڈز نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے کتے کاٹنے کی ویکسین ہی دستیاب نہیں تو اس بارے وزارت صحت کو سوچنا چاہیے۔ جب بھارت کا معاملہ ہوا تو انہوں نے ادویات بند کردیں۔

(جاری ہے)

میں نے فوری فون کیا کہ کیا آپ اینٹی کینسر ادویات کے بغیر چل سکتے ہیں۔آپ کیوں ایسے اقدامات لیتے ہو،تین دن بعد پھر واپس کردیا۔ پولی کلینک ہسپتال کا دورہ کیا تو میں وہاں جاکر سوچا اللہ کسی کوپولی کلینک اور پمزہسپتال میں نہ لے کرجائے۔

ہزاروں مریض لائن میں کھڑے ہوتے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا سسٹم نہیں دیکھا۔ سائرہ افضل تارڑ تھیں وہ بھی اپنی باتوں میں کچھ نہ کرسکیں اور یہ بھی کچھ نہ کرسکے؟ ایک سال ہوا ہے لیکن کب تک؟ ابھی مجھے پتا چلا ہے کہ ان کو کوئی بندہ نہیں مل رہا۔ واضح رہے سندھ کے باسی کتے کے کاٹنے سے سسک سسک کر جان دینے پر مجبور ہوگئے، دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ سندھ کے اسپتالوں میں اینٹی ریبیز انجیکشن موجود ہے۔ سندھ کے سرکاری اسپتالوں کو اینٹی ریبیز انجکشن خزانے سے خرید کر دی جاتی ہے۔ مگر یہ انجیکشن باہر بیچ دیے جاتے ہیں۔کتے کے کاٹے کا کوئی مریض آجائے تو اس کے لواحقین ایجنٹ آگے پیچھے پھرتے ہیں کہ پیسے دینے پر انجکیشن لگ جائے گا۔