پاک افغان سرحد پر ایک سال میں 630کلو میٹر پر باڑ لگا نے کا کام مکمل ہوچکا ہے،لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ

پاک ایران سرحد پرپر بھی 30کلو میٹر باڑ لگانے کا پیکج تیار ہوچکا ہے،حکومت اور اداروں نے ملکر دہشتگردی کو شکست دی اب دہشتگرد آ تو سکتا ہے لیکن جا نہیں سکتا کمانڈر سدرن کمانڈ

جمعہ ستمبر 23:47

پاک افغان سرحد پر ایک سال میں 630کلو میٹر پر باڑ لگا نے کا کام مکمل ہوچکا ..
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 ستمبر2019ء) کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ بلوچستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان کا سامنا کیا ، صوبے کا مستقبل روشن اور ہم اپنی منزل کے قریب ہیں ،پاک افغان سرحد پر ایک سال میں 630کلو میٹر پر باڑ لگا نے کا کام مکمل ہوچکا ہے،پاک ایران سرحد پرپر بھی 30کلو میٹر باڑ لگانے کا پیکج تیار ہوچکا ہے،حکومت اور اداروں نے ملکر دہشتگردی کو شکست دی اب دہشتگرد آ تو سکتا ہے لیکن جا نہیں سکتا،یہ بات انہوں نے جمعہ کو آئی جی پولیس بلوچستان محسن حسن بٹ کی جانب سے اپنے اعزاز میں دئیے گئے بڑا کھانے سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر آئی جی ایف سی (نارتھ) میجر جنرل فیاض حسین شاہ، آئی جی ایف سی (سائوتھ ) میجر جنرل سعید احمد ناگرہ، چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن (ر)فضیل اصغر ،ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ سمیت دیگر بھی موجود تھے، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ جب چرچ کے اند ر پولیس کے جوا ن نے خودکش حملہ آور کو ہلاک کیا تو یقین ہوگیا کہ ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیاب ہوچکے ہیں ،ماضی میں کوئٹہ میں دن میں ٹارگٹ کلنگ کے دو سے تین واقعات ہوتے تھے جب ایلیٹ پولیس بنائی تو اعادہ کیا کہ حملہ آور آ تو سکتا ہے جا نہیں سکتا پولیس نے بہادی سے مقابلہ کیا اور ٹارگٹ کلرز کو مارا گیا ،اب کوئی آنے سے دس بار پہلے سوچے گا ، پولیس کو دہشتگردی پر قابو پانے کا سہرا جاتا ہے ،انہوں نے کہا کہ بلوچستان معمول کی طرف جارہا ہے اب پولیس، اے ٹی ایف، اسپیشل برانچ اپنا کام کر رہی ہیں ایف سی اور دیگر فورسز پیچھے جارہی ہیں تمام فورسز حکومت کی سرپرستی میں امن و امان کے قیام کے لئے متحد ہیں ،انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا علاج اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرنا ہے ، بلوچستا ن میں سرحد پار سے دہشتگرد آتے ہیں پاک فوج نے حکومت کی سرپرستی میںافغان بارڈر پر ایک سال میں 630کلو میٹر باڑ لگا نے کا کام مکمل کرلیا ہے جبکہ پاک ایران سرحد پر بھی باڑ لگانے کا کام شروع ہوچکا ہے جسکا پہلے 30کلو میٹر کا پیکج تیار ہوچکا ہے دنیا میں انتی تیزی سے کہیں باڑ نہیں لگی ،انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کا مستقبل روشن ہے حالات کی بہتری سے معاشی سرگرمیاں تیز سے تیز تر ہو رہی ہیں ہم منزل کے قریب ہیں پاکستان کا ہر ادارہ اور حکومت مسائل کا حل یکجا ہو کر نکالیں گے اور آگے بڑھیں گے کمانڈر سدرن کمانڈ نے کہا کہ بلوچستان پولیس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بیش قیمت قربانیا ں دی ہیں ،ہماری پولیس کی سلیکشن کا سسٹم دنیا کی بہترین پولیس کے سسٹم کے برابر ہے پولیس کے جوانوں کا حوصلہ بلند ہے جب بلوچستان تعینات ہوا تو اعادہ کیا کہ پولیس کو بہتر بنانا ہے پولیس کے پاس ٹریننگ اور آلات کمی ہے ہمارے پاس قیادت کی کمی نہیں پولیس کے افسران بہترین اور پیشہ ورانہ طور پر ماہر ہیں ہم نے سینئر پولیس قیادت کے ساتھ ملکر سی ٹی ڈی ، اے ٹی ایف کو منظم بنایا اور آج یہ تمام ادارے اپنا کام کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کو بلوچستان کی اہم پوزیشن کی وجہ سے دہشتگردی کا نشانہ بنا یا گیا سیف سٹی منصوبے کی تکمیل سے سکیورٹی کی صورتحال مزید بہتر ہوگی ۔