بابری مسجد کا فیصلہ ہندوؤں کے حق میں، لیکن بابری مسجد کو شہید کرنے والے بلویر سنگھ نے اسلام قبول کرلیا

بلویر سنگھ نے مسجد شہید کرنے کے بعد اسلام کے بارے میں تعلیم حاصل کی اور متاثر ہو کر اسلام قبول کیا، اپنی غلطی کے کفارے کے طور پر 100مساجد بنانے کا فیصلہ کیا جس میں سے 90کی تعمیر مکمل ہو گئی۔ بھارتی میڈیا

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ ہفتہ نومبر 23:06

بابری مسجد کا فیصلہ ہندوؤں کے حق میں، لیکن بابری مسجد کو شہید کرنے والے ..
نئی دہلی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔09نومبر 2019ء) آج بابری مسجد کیس کا فیصلہ ہندوؤں کے حق میں سنا دیا گیا لیکن دوسری جانب پتا چلا ہے کہ 1992میں بابری مسجد کو شہید کرنے والا بلویر سنگھ اسلام قبول کرچکا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بلویر سنگھ نے بابری مسجد شہید کرنے کے بعد اسلام کے بارے میں تعلیم حاصل کی اور متاثر ہو کر اسلام قبول کیا۔ بلویر سنگھ جنہوں نے مسلمان ہونے کے بعد اپنا نام بدل کر محمد امیر رکھ لیا ہے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مسجد کو شہید کرنے میں ہندوؤں کا ساتھ دیا تھا، وہ شیو سینا کے رکن تھے لیکن مسجد کی شہادت کے بعد انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے آہستہ آہستہ اسلام سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔

 
وہ ایک مسلمان خاتون سے شادی بھی رک سکے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے اپنی غلطی کے کفارے کے طور پر 100مساجد بنانے کا فیصلہ کیا تھا جس میں سے 90کی تعمیر مکمل ہو گئی ہے۔ بلویر سنگھ نے بتایا کہ وہ آج بھی اپنے ماضی پر پچھتاتے ہیں اور انہیں انکی غلطی خون کے آنسو رلاتی ہے۔ انہوں نے آج بھارتی عدالت کی جانب سے بابری مسجد کیس کا فیصلہ ہندوؤں کے حق میں سنائے جانے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور اسے غلط قرار دیا۔

خیال رہے کہ بھارت کی عدالت عظمیٰ نے بابری مسجد کی زمین کسی فریق کی بجائے ٹرسٹ کو دینے اور مسلمانوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے،سپریم کورٹ نے پانچ رکنی بنچ نے کیس کی سماعت 16اکتوبر کو مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ چیف جسٹس رانجن گنگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے آج اس طویل تنازع کا فیصلہ سنایا ہے،جب کہ جسٹس نذیر اس بینچ کے واحد ملسمان جج ہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسحد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی زمین ہندوؤں کے حوالے کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو مندر تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے۔چیف جسٹس رانجن گنگوئی کا کہنا ہے کہ بابری مسجد کیس کا فیصلہ متفقہ ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہندو ایودھیا کو رام کی جنم بھومی جب کہ مسلمان اس جگہ کو بابری مسجد کہتے ہیں۔بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ عدالت کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ مذہب پر بات کرے۔

عبادت گاہوں کے مقام سے متعلق ایکٹ مذہبی کمینوٹیز کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ مسجد کی جگہ پر رام کی جنم بھومی تھی۔ اور بابری مسجد کے نیچے اسلامی تعمیرات نہیں تھیں۔بابری مسجد کو خالی پلاٹ پر تعمیر نہیں ہندو اسٹرکچر پر تعمیر کی گئی۔بھارتی سپریم کورٹ نے مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کے لیے متبادل کے طور پر علحیدہ زمین فراہم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ایودھیا میں متنازع زمین پر مندر قائم کیا جائے گا جب کہ مسلمانوں کو ایودھیا میں ہی مسجد کی تعمیر کے لیے 5ایکڑ زمین فراہم کی جائے۔