مولانا فضل الرحمان نے اپنے موبائل پر کیا دکھایا تھا، مہر بخاری نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر کی حقیقیت بتا دی

مولانا نے اپنے موبائل میں جو دکھایا تھا وہ بتا نہیں سکتی، انہوں نے کہا تھا کہ مارشل لاء میں جیل کی زندگی گزار سکتے ہیں لیکن عمران خان کی حکومت میں آزاد شہری کی زندگی بھی انہیں قبول نہیں: خاتون صحافی

muhammad ali محمد علی جمعرات نومبر 22:43

مولانا فضل الرحمان نے اپنے موبائل پر کیا دکھایا تھا، مہر بخاری نے سوشل ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 نومبر 2019ء) مولانا فضل الرحمان نے اپنے موبائل پر کیا دکھایا تھا، مہر بخاری نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر کی حقیقیت بتا دی، خاتون صحافی کا کہنا ہے کہ مولانا نے اپنے موبائل میں جو دکھایا تھا وہ بتا نہیں سکتی، انہوں نے کہا تھا کہ مارشل لاء میں جیل کی زندگی گزار سکتے ہیں لیکن عمران خان کی حکومت میں آزاد شہری کی زندگی بھی انہیں قبول نہیں۔

تفصیلات کے مطابق کچھ روز قبل اپنے دھرنے میں خاتون اینکر مہر بخاری سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف کافی سخت زبان استعمال کی اور ایک مرتبہ پھر سے وزیراعظم عمران خان کے استعفے اور ملک میں نئے انتخابات کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔ مہر بخاری کو مولانا فضل الرحمان کے اس انٹرویو کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی تھی۔

(جاری ہے)

اس تصویر میں مولانا فضل الرحمان خاتون صحافی مہر بخاری کو اپنے موبائل فون پر کچھ دکھا رہے تھے۔ اس تصویر میں دونوں کے چہرے کے تاثرات کو دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ آخر مولانا فضل الرحمان مہر بخاری کو اپنے موبائل فون پر کیا دکھا رہے تھے ؟ تصویر میں دیکھا گیا کہ مولانا فضل الرحمان قدرے اطمینان سے مہر بخاری کو اپنے موبائل فون پر جب کھچ دکھا رہے تھے تو ایسے میں مہر بخاری کے چہرے کے تاثرات ایسے ہیں جیسے وہ حیران ہو رہی ہوں یا پھر انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہ آ رہا ہو۔

اب اس بات کو کئی روز گزرنے کے بعد خاتون صحافی مہر بخاری نے تمام معاملے کے حوالے سے خود وضاحت کی ہے۔ مہر بخاری نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا نے انہیں اپنے موبائل پر جو کچھ دکھایا تھا، وہ اس حوالے سے کچھ بھی نہیں بتا سکتیں۔ تاہم وہ یہ ضرور بتا سکتی ہیں کہ مولانا کے روابط اوپر تک قائم ہیں۔ مولانا نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ملک میں مارشل لاء لگ جائے اور انہیں جیل میں ڈال دیا جائے تو انہیں وہ قبول ہو گا۔ لیکن انہیں عمران خان کی حکومت کسی صورت قبول نہیں ہے۔ انہیں عمران خان کی حکومت میں آزاد شہری کی زندگی بھی قبول نہیں وہ ہر صورت عمران خان سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں۔