حوا کی ایک اور بیٹی پولیس کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ گئی

15سالہ معظمہ نے پولیس کے عدم تعاون پر نہر میں کود کر جان دے دی

Usama Ch اسامہ چوہدری بدھ دسمبر 00:51

حوا کی ایک اور بیٹی پولیس کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ گئی
فیصل آباد(اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین11 دسمبر2019) : حوا کی ایک اور بیٹی پولیس کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ گئی ہے۔15سالہ معظمہ نے پولیس کے عدم تعاون پر نہر میں کود کے جان دے دی۔ تفصیلات کے مطابق 15سالہ معظمہ کو مبینہ طور پرزیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تھا نہ چکری والا میں مقدمہ درج کروایا گیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے کسی بھی قسم کا تعاون نہیں کیا گیاتھا۔

پولیس کی جانب سے کیس میں لاپرواہی برتی گئی ۔ معظمہ میٹرک کی طلبہ تھی اور اپنے ساتھ ہوئی زیادتی پر اسکو بہت زیادہ رنج تھا۔ جب پولیس کی جانب سے کیس میں کسی بھی قسم کا تعاون نہیں کیا گیا تو معظمہ نے اپنے پر ہوئی زیادتی کے تیسرے روز ہی نہر میں کود کر اپنی جان دے دی۔ 10 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی لاش کو برآمد نہیں کیا جا سکا ہے۔

(جاری ہے)

والدین نے اس معاملے کا ذمہ دار تھانہ چکری والہ کے اہلکاروں کو ٹھہرایا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سابق آسٹریلوی وزیراعظم باب ہاک کی بیٹی روزلین ڈِلون نے انکشاف کیا تھا کہ 80 کی دہائی میں انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا گیاتھا۔روزلین نے کہاتھا والد باب ہاک کی پارٹی کے ایک سینیٹر نے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ  والد کو اس زیادتی کے بارے میں بتایا تو والد نے بدنامی کے خوف سے مجھے خاموش رہنے کا کہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق جب روزلین ڈِلون نے تیسری بار زیادتی پولیس کو رپورٹ کرنا چاہی تو والد ( سابق آسٹریلوی وزیراعظم) باب ہاک نے کہا کہ میں اپنے اردگرد ایسے متنازعہ بیانات کو برداشت نہیں کرسکتا، مجھے اس بات پر افسوس ہے مگر میں اس وقت لیبر پارٹی کی قیادت کررہا ہوں۔ تاہم لیبر پارٹی کے دوسرے ارکان نے بھی اس متنازعہ پر بات کرنے سے گریز کیا ۔ یاد رہے آسٹریلیا کے سابق وزیر اعظم باب ہاک 5مئی 2019 کو انتقال کر گئے تھے۔ ان کی اہلیہ نے بتایا کہ ہاک کا انتقال انتہائی پرسکون انداز میں سڈنی میں ان کے گھر پر ہوا۔ نواسی سالہ باب ہاک 1983ءسے 1991ء تک آسٹریلیا کے سربراہ حکومت رہے تھے۔ ان کا تعلق لیبر پارٹی سے تھا۔

متعلقہ عنوان :