بنگلورو میں متنازعہ قانون کے خلاف مظاہروں کے دوران دیواروں پر 'فری کشمیر' کے نعرے درج

منگل جنوری 20:15

بنگلورو میں متنازعہ قانون کے خلاف مظاہروں کے دوران دیواروں پر 'فری ..
بنگلورو۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 جنوری2020ء) بھارتی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو کے کاروبارری مرکز میں منگل کو ترمیمی شہریت قانون اور نیشنل رجسٹریشن آف سٹیزنز کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران عمارتوں کی دیواروں پر متنازعہ قانون کے خلاف نعروں کے ساتھ ساتھ 'فری کشمیر' کے نعرے بھی دیکھے گئے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ نعرے بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ کی طرف سے بھارت مخالف نعرے لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی وراننگ دیے جانے کے ایک دن بعد سامنے آئے۔

اس موقع پر ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ ہمیں اس بارے میں ابھی پتہ چلا ہے اور ہمیں معلوم نہیں کہ یہ کام کون کرسکتا ہے۔ شرنگر پلازہ کی دیواریںاورشٹرز ان نعروں سے بھرے ہوئے تھے۔

(جاری ہے)

یہ نوجوانوں کی ایک پسندیدہ جگہ ہے جہاں وہ اکثر تصاویر ، سیلفیز اور شوقیہ میوزک اور ڈانس کی ویڈیوز بناتے ہیں۔ حال ہی میںمیسورو میں ایک لڑکی کو متنازعہ قانون کے خلاف ریلی میں ’’ فری کشمیر ‘‘پوسٹر اٹھانے پر نوٹس دیا گیا تھا۔

دیواروں پر’’نو سی اے اے‘‘ ،’’ نو این آر سی‘‘،’’ کاغذ نہیں دکھائیں گے‘‘ اور’’حراستی کیمپوںکے خلاف نعرے درج تھے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امیت شاہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف بھی نعرے دیکھے گئے۔بھارت کے دیگر مقامات کی طرح بنگلورو میں بھی متنازعہ قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ اگرچہ اس قانون کے خلاف مظاہروں نے بھارت کے دیگر علاقوں میں پرتشدد رخ اختیار کرلیا ہے تاہم بنگلورو میں یہ مظاہرے پرامن ہیں۔