وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت اجلاس،انڈسٹریل اسٹیٹس و سپیشل اکنامک زونز کے قیام، سالانہ ترقیاتی پروگرام پر پیش رفت کا جائزہ

جمعہ جنوری 19:33

وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت اجلاس،انڈسٹریل اسٹیٹس و سپیشل اکنامک ..
لاہور۔24 جنوری(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جنوری2020ء) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرصدارت وزیراعلیٰ آفس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا،جس میںصوبے میں انڈسٹریل اسٹیٹس و سپیشل اکنامک زونز کے قیام، سالانہ ترقیاتی پروگرام پر پیش رفت، صوبائی فنانس کمیشن اور وزیراعظم کے ’’کامیاب نوجوان پروگرام‘‘ کے امور کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں کیلئے ترقیاتی سکیموں پر بھی غور کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 187 ارب روپے جاری کئے جا چکے ہیںاور مختلف منصوبوں پر 107 ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیںجبکہ 42 ارب روپے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں کیلئے رکھے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ انفراسٹرکچر فنڈکے قیام کی تجویز زیر غور ہے۔

انہوںنے کہا کہ جنوبی پنجاب کی ترقی کیلئے 62 ارب روپے مختص کئے گئے ہیںاورجنوبی پنجاب کیلئے 42 ارب روپے کے فنڈز ریلیز کئے جا چکے ہیں۔پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے مختص فنڈز کو کسی دوسرے علاقے یا منصوبے کیلئے منتقل کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے اورمحکموں کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت سکیموں پر کام کی رفتار تیز کی جائے۔

انہوںنے کہا کہ جاری ہونے والے فنڈز کا بروقت استعمال یقینی بنایا جائے گا۔صوبے میں صنعتی عمل کو تیز کرنے کیلئے 17 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان مقامات کو ڈویلپ کرنے کیلئے حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے۔ قائداعظم ایپرل پارک کے منصوبے کا افتتاح مارچ میں ہوگا۔صوبے میں سپیشل اکنامک زونز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے اور ان زونز کے قیام سے سرمایہ کاری بڑھے گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں ایک ہزار ایکڑ پر نئی انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام عمل میں لائیں گے۔اس انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام سے تقریباً ساڑھے تین لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ صوبے کے پسماندہ علاقوں میں بھی انڈسٹریل اسٹیٹس کو ڈویلپ کیا جا رہا ہے۔ عبوری صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ 2017 فنکشنل ہے جبکہ پنجاب کابینہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت کمیشن کے قیام کی منظوری دے چکی ہے اور یہ کمیشن جلد نوٹیفائی ہو جائے گا۔

پنجاب میں مجموعی طور پر 455 لوکل گورنمنٹس وجود میں آئیں گی۔انہوںنے کہا کہ پنجاب میونسپل سروسز پروگرام کیلئے اربوں روپے رکھے گئے ہیں اور اس پروگرام کے تحت مقامی سطح پر سیوریج اور واٹر سپلائی کی غیرفعال سکیموں کو بحال کیا جائے گا۔کوڑا کرکٹ اٹھانے کیلئے ضروری مشینری خریدی جائے گی اور اس پروگرام کے تحت اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں کام ہوگا۔

پنجاب میونسپل سروسز پروگرام کا آغاز اگلے ماہ ہوگا۔دیہات میں سڑکوںکی تعمیر و مرمت کے پروگرام کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کیا جا رہا ہے اور اس پروگرام کے تحت بھی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا کام ہوگا۔ منتخب نمائندوں کو ان کا جائز حق ہر صورت دیں گے۔انہوںنے کہا کہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے جائز کام ترجیحی بنیادوں پر ہوں گے۔

وزیراعظم کے ’’کامیاب نوجوان پروگرام‘‘ میں پنجاب لیڈ لے گا۔نوجوانوں کو بااختیار بنانے کیلئے یہ انقلابی پروگرام ہے۔وفاقی وزیر پلاننگ و ڈویلپمنٹ اسد عمر، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے یوتھ افیئرز محمد عثمان ڈار، صوبائی وزیر صنعت میاں اسلم اقبال، مشیر وزیراعلیٰ ڈاکٹر سلمان شاہ، رکن صوبائی اسمبلی مسرت جمشید چیمہ، چیف سیکرٹری، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، سیکرٹری خزانہ اور پرنسپل سیکرٹری و زیراعلیٰ نے اجلاس میں شرکت کی ۔