قومی اسمبلی میں شہریار آفریدی اور اسعد الرحمان آمنے سامنے

وزیرمملکت نے بلکل جھوٹ بولا ہے، وہ نشاندہی کریں اور الزام لگانے سے گریز کریں: جمیعت علماء اسلام (ف) کے رہنما اسعد الرحمان کا بیان

Usama Ch اسامہ چوہدری جمعرات فروری 18:40

قومی اسمبلی میں شہریار آفریدی اور اسعد الرحمان آمنے سامنے
اسلام آباد (اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین 13 فروری 2020) : قومی اسمبلی میں شہریار آفریدی اور اسعد الرحمان آمنے سامنے۔ تفصیلات کے مطابق آج قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیرمملکت شہریار آفریدی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے جمیعت علماء اسلام (ف) کے رہنما اسعد الرحمان کا کہنا تھا کہ شہریار آفریدی نے بلکل جھوٹ بولا ہے، وہ نشاندہی کریں اور الزام لگانے سے گریز کریں۔

انھوں نے کہا کہ ایک مدرسے کی وجہ سے تمام مدارس کو بدنام نہ کیا جائے۔ شہریار آفریدی نے اپنے بیان میں ایک عالم دین سے متعلق واقعہ کا ذکر کیا تھا جس پر مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر اسعد محمود نے کہا کہ شہریار آفریدی نے جس مدرسے کا ذکر کیا ہے وہ سامنے لایا جائے۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ انہوں نے ایک عالم کی بات کی ہے کسی مدرسے کا ذکر نہیں کیا۔

(جاری ہے)

وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ مدارس نے غریب تر بچوں کو تعلیم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان مدارس نے سرکار سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا اور معیاری تعلیم فراہم کی تاہم اچھے برے لوگ ہر جگہ موجود ہیں۔ اسعد محمود نے کہا کہ وہ شفقت محمود کے خیالات پر ان کے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مدرسے کی وجہ سے تمام دینی مدارس کے بارے میں شکوک و شبہات کیوں پھیلائے جارہے ہیں۔

اگر کسی مدرسے پر الزام ہے تو معاملہ وفاق المدارس اور دیگر اداروں کے ساتھ اٹھایا جائے۔ شفقت محمود نے کہا کہ پاکستانی مدارس کا معیار بہتر ہے اور دنیا بھر سے لوگ یہاں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے آرہے ہیں۔ ہماری وزارت ایسے طلباء کو ویزوں کی فراہمی آسان بنانے کے لئے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریار آفریدی کسی مدرسے کا نہیں بلکہ ایک عالم کا ذکر کر رہے تھے۔