صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی راجر سٹون کی سزا کے معاملے پر ٹویٹس نے میرے کام کو مشکل بنا دیا ہے، اٹارنی جنرل ولیئم بار

جمعہ فروری 13:45

واشنگٹن۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 فروری2020ء) امریکی اٹارنی جنرل ولیئم بار نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنے سابق ساتھی راجر سٹون کی سزا کے معاملے پر ٹویٹس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کی ٹویٹس نے میرا کام کرنا مشکل بنا دیا ہے تاہم یہ ٹویٹس محکمہ انصاف کے فیصلے پر ہر گزاثرانداز نہیں ہوں گی۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق اٹارنی جنرل ولیئم بار نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ میں مسلسل تبصروں کے ساتھ اپنا کام نہیں کر سکتا جو مجھے میرے کام پر توجہ مرکوز کرنے سے روکے اور اسے مشکل بنا دے لیکن وہ کانگریس، نیوزپیپر ایڈیٹوریل بورڈ یا صدر کسی بھی دیگر بیرونی طاقتوں کے اثرورسوخ کے بغیر محکمہ انصاف میں غیرجانبدارانہ انداز میں کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ محکمہ انصاف کے جرائم کے مقدمات سے متعلق ٹویٹس اور تبصروں کو روکنے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے انہیں جرائم کے مقدمات سے متعلق کبھی کچھ کرنے کے لیے نہیں کہا لیکن وہ تسلیم کرتے ہیں کہ صدر کے تبصروں نے ان کے کام کرنے کو مشکل بنا دیا ہے تاہم وہ عدالتوں اور استغاثہ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اپنا کام پوری ایمانداری سے کر رہے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ میں وہ کام کرتا ہوں جو مجھے صحیح لگتا ہے اور میں کسی کے بھی مسلسل تبصرے کے ساتھ اپنا کام نہیں کر سکتا۔

راجر سٹون کے کیس کا فیصلہ 20 فروری کو سنائے جانے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ راجر سٹون نے نومبر میں 2016 ء کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کی تحقیقات کے دوران جھوٹ بولنے اور ڈیموکریٹک ذرائع کی طرف سے ای میلز ہیک کرنے پر گواہ کے ساتھ جعل سازی میں ملوث پائے گئے۔ فیڈرل پراسیکیوٹرز نے قانون کی بالادستی کے لئے راجر سٹون کو 7 سے 9 سال تک قید کی سزا کرنے کی تجویز پیش کی جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹس میں اسے بہت خوفناک اور غلط قرار دیا۔