سعودی عرب میں بدبخت چوروں نے مستحقین کے کپڑے بھی نہ چھوڑے

مختلف مقامات پر فلاحی انجمنوں کے کیبن سے پُرانے ملبوسات چوری کرنے والوں کو گرفتار کر لیا گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر فروری 13:49

سعودی عرب میں بدبخت چوروں نے مستحقین کے کپڑے بھی نہ چھوڑے
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔17فروری 2020ء) سعودی عرب میں مقیم مقامی اور تارکین فلاحِ عامہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ جبکہ کئی فلاحی تنظیمیں بھی مستحقین کی امداد کے لیے پیش پیش ہیں۔ کچھ فلاحی تنظیمیں ایسی ہیں جو لوگوں سے پُرانے اور ضرورت سے زائد قابلِ استعمال ملبوسات اکٹھے کر کے انہیں مستحقین تک پہنچاتی ہیں۔ ان فلاحی تنظیموں کی جانب سے سڑک کنارے کیبن بنائے گئے ہوتے ہیں، جن میں لوگ اپنے ملبوسات بطور عطیہ جمع کرا دیتے ہیں۔

تاہم کئی انسانیت سے خالی لوگ ان کپڑوں کو چُرانے سے بھی باز نہیں آتے۔ سعودی پولیس نے مستحقین کے لیے مخصوص کپڑے چُرانے والے کئی افراد کو گرفتار کر لیا ہے جو تارکین وطن بتائے جا رہے ہیں۔ اُردو نیوز کے مطابق سعودی دارالحکومت ریاض میں فلاحی انجمنوں کے کیبن سے ملبوسات چوری ہو رہے تھے۔

(جاری ہے)

فلاحی انجمنوں نے پولیس سٹیشنوں میں رپورٹیں درج کرائی تھیں۔

اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کچھ لوگ فلاحی انجمنوں کی جانب سے رکھے ہوئے کیبن سے ملبوسات چوری کررہے ہیں۔اس کے بعد پولیس نے واردات کرنے والوں کی نشاندہی کرکے انہیں گرفتار کرلیا۔ ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ملبوسات کی چوری کی اطلاع پر صارفین نے سوشل میڈیا پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا یہ کیسے بے ضمیر لوگ ہیں جو دکھی اور غریب لوگوں کے لیے جمع ہونے والے عطیات بھی نہیں چھوڑ رہے ہیں۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں کئی فلاحی تنظیموں نے مختلف علاقوں کے نمایاں مقامات پر کیبن رکھوائے ہوئے ہیں جہاں سعودی شہری اور مقیم غیر ملکی ضرورت مندوں کے لیے اپنے استعمال سے زائد کپڑے یا پرانے قابل استعمال ملبوسات جمع کراتے ہیں۔فلاحی انجمنیں یہ ملبوسات ضرورت مندوں میں تقسیم کرادیتی ہیں۔