مئی میں آم برآمد کرنے سے بہت نقصان کا اندیشہ ہے، وحید احمد

ہفتہ مئی 15:16

مئی میں آم برآمد کرنے سے بہت نقصان کا اندیشہ ہے، وحید احمد
ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 مئی2020ء) پاکستانی آم جون سے قبل نہ تو صحیح طورپر تیارہوتا ہے نہ ہی اس کا رنگ نکلتا ہے ۔اس لیے جون کے پہلے ہفتے سے قبل اس کو برآمد کرنے کے احکامات پر عمل کرنے سے بہت نقصان کااندیشہ ہے۔آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹ اینڈمرچنٹس ایسوسی ایشن کے پیٹرن انچیف وحید احمد نے مزید کہاکہ گزشتہ سال بھی 20مئی کو بیرون ملک آم بھیجنا شروع کیاتھا جس کی وجہ سے مڈل ایسٹ میں ہمارے آم سے بھرے ہوئے 40کنٹینرریجیکٹ ہوگئے تھے جس کی وجہ سے برآمد کنندگان کوبڑا معاشی نقصان اٹھاناپڑا تھا۔

اسی تناظر میں ہماری تنظم نے سیکرٹری منسٹری آف نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کوخط لکھاتھا کہ اس سال آم کی برآمد 20مئی کو نہیں بلکہ جوکن کے پہلے ہفتے کے لگ بھگ شروع کی جائے تاہم وزارت کامرس نے 19مئی کو آفس میمورنڈم جاری کرکے 20مئی کوآم برآمد کرنے کے انتظامات کرنے کاحکم دے دیا جس کی وجہ سے تین بڑے نقصانات کا سامنا کرناپڑسکتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ چونکہ آم صحیح طورپر ’’ میچور‘‘ نہیں ہوگا اس لیے عالمی مارکیٹ میں اس کی صحیح قیمت نہیں ملے گی دوسرے عالمی مارکیٹ میں رسوائی اور اعتماد خراب ہوگا اور تیسرے اعتماد خراب ہونے کی وجہ سے ہمیں مزید آرڈرز بھی نہیں ملیں گے جس کی وجہ سے ایک توہم قیمتی زرمبادلہ سے محروم ہوجائیں گے اور دوسرے برآمد رکنے یا کم ہونے سے کاشتکار کوصحیح قیمت نہیں ملے گی۔ وحید احمدنے کہاکہ آم کا صحیح ذائقہ اور خوشبو مئی کے آ خر تک اور جون کے پہلے ہفتے میں بنتی ہے اس لیے حکومت سے درخواست ہے کہ جون کے پہلے ہفتے سے آم برآمدکرنے کے احکامات دیئے جائیں۔

متعلقہ عنوان :