سعودی عرب کے مسجد الاقصیٰ کے کنٹرول کیلئے اسرائیل سے خفیہ مذاکرات کا انکشاف

یہ مذاکرات خفیہ ہیں، اسرائیل کے سفارتکاروں اور اعلیٰ سکیورٹی حکام نے مذاکرات میں شرکت کی، مذاکراتی ٹیم میں امریکا اور سعودی حکام نے بھی شامل تھے: غیر ملکی خبر رساں ادارے کا سعودی سفارتکار کے حوالے سے دعویٰ

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ بدھ جون 23:11

سعودی عرب کے مسجد الاقصیٰ کے کنٹرول کیلئے اسرائیل سے خفیہ مذاکرات کا ..
یروشلم (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 03جون2020ء) : سعودی عرب کے مسجد الاقصیٰ کے کنٹرول کیلئے اسرائیل سے خفیہ مذاکرات کا انکشاف ہوا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے نے ایک سعودی سفارتکار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان خفیہ مذاکرات ہو رہے ہیں جن کا مقصد مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی املاک کا کنٹرول سعودی عرب کے زیر انتظام کرنا ہے۔

خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ایک سعودی سفارتکار کے مطابق یہ مذاکرات خفیہ ہیں، اسرائیل کے سفارتکاروں اور اعلیٰ سکیورٹی حکام نے مذاکرات میں شرکت کی، مذاکراتی ٹیم میں امریکا اور سعودی حکام نے بھی شامل تھے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات سفارت کاروں کی سطح پر شروع ہوئے اور اس میں اعلیٰ سطح کی اسرائیلی سیکورٹی ٹیم، امریکی حکام اور سعودی حکام بھی شامل تھے۔

(جاری ہے)

ان مذاکرات کے ذریعے جو معاہدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اسے صدی کا تاریخی معاہدہ قرار دیاجا رہا ہے۔ خبررسں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مسجد الاقصیٰ میں اسلامی ایڈومنٹ کونسل میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کے حوالے سے اردن نے سخت مخالفت کی تھی، تبدیلی مقدس مقام پر ترکی کے بڑھتے کردار کی وجہ سے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اردنی ٹیم نے باب الرحمہ کے مقام پر پیش آنے والی بد امنی اور 2017ء کے میٹل ڈٹیکٹر بحران کے بعد اسلامی اینڈومنٹ کونسل میں توسیع کی مخالفت کی اور اوسلو معاہدے کی مخالفت میں جاتے ہوئے غیر معمولی انداز سے اس بات پر اتفاق کیا کہ کونسل میں فلسطینی نمائندوں کو شامل کیا جائے گا۔

سفارتکار کے مطابق بحرین اور متحدہ عرب امارات بھی اس معاہدے میں سعودی عرب کے ساتھ ہیں۔ تاہم اسرائیلی سرکاری حکام نے ایسے کسی بھی مذاکرات کی تردید کی ہے۔