پاک چین اشتراک سے قائم ہونے والا " ہائبرڈ رائس ریسرچ سنٹر" رواں سال کے آخر تک کام شروع کر دے گا، چاول کی پیداوار اور برآمدات کو بڑھانے میں مدد ملے گی، چائنہ ایسوسی ایشن آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی رپورٹ

جمعہ اگست 10:46

․ اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 اگست2020ء) پاکستان اور چین کے اشتراک سے قائم کیا جانے والا " ہائبرڈ رائس ریسرچ سنٹر" رواں سال کے آخر تک کام شروع کر دے گا۔ مشترکہ تحقیقاتی مرکز سے چاول کی مقامی پیداوار میں نمایاں اضافہ سے اندرون ملک غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ برآمدات میں بھی اضافہ ہو گا۔ چائنہ ایسوسی ایشن آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب یونیورسٹی لاہور اور چین کی ہووہان یونیورسٹی کے باہمی اشتراک سے ہائبرڈ رائس ریسرچ سنٹر قائم کیا جا رہا ہے جو رواں سال کے آخر تک باقاعدہ کام کا آغاز کر دے گا جس سے پاکستان میں غذائی تحفظ کے ساتھ ساتھ برآمدات کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔

رپورٹ کے مطابق ووہان یونیورسٹی کے چاول کی اقسام کے بارے میں عالمی تعاون منصوبہ کے سربراہ انجینئر ژو شان نے کہا ہے کہ چاول کی نئی تیار کی جانے والی بعض اقسام مخصوص ماحول اور علاقوں میں بہتر نتائج دیتی ہیں تاہم چین کا تیار کردہ ہنگولین ہائبرڈ چاول کے بیج کی کاشت سے پاکستان میں چاول کی فی ہیکٹر پیداوار 7500 کلو تک بڑھ جائے گی جو دیگر اقسام کے مقابلہ میں تین گنا زیادہ ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ چین میں جدید تحقیق کے بعد تیار کئے جانے والے چاول کے ہائبرڈ بیجوں سے نہ صرف چین میں فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے بلکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بھی پیداوار میں بھر پور اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنگولین ہائبرڈ چاول پاکستان کے موسمی حالات کے موافق ہے کیونکہ شدید گرمی اور پانی کے استعمال کے حوالہ سے بھی اس کے نتائج شاندار رہے ہیں اور اس کی فی ایکٹر پیداوار دیگر ہائبرڈ بیجوں سے کہیں بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنگولین ہائبرڈ رائس کا بیج دیگر اقسام کے مقابلہ میں سستا ہونے کی وجہ سے پیداواری اخراجات میں کمی اور منافع میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے۔