’انکل ہماری ماما کو مت ماریں‘ زیادتی کا شکار خاتون کے بچوں کی التجا

متاثرہ خاتون کے بچے آج بھی ہر اجنبی شخص کو دیکھ کر کانپنے لگتے ہیں ، جاوید چوہدری کا کالم

Sajid Ali ساجد علی اتوار ستمبر 14:15

’انکل ہماری ماما کو مت ماریں‘ زیادتی کا شکار خاتون کے بچوں کی التجا
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 ستمبر2020ء) معروف تجزیہ کار جاوید چوہدری نے بتایا ہے کہ موٹر وے زیادتی کیس میں متاثرہ خاتون کے بچے پانچویں دن بھی پھٹی ہوئی آنکھوں سے درو دیوار کو دیکھتے ہیں ، یہ ہر اجنبی شخص کو دیکھ کر کانپنے لگتے ہیں اور چیخ چیخ کر کہتے ہیں ’انکل ہماری ماما کو مت ماریں پلیز انھیں چھوڑ دیں‘ ۔ اپنے ایک کالم میں جاوید چوہدری نے لکھا ہے کہ یہ بچے المیہ ہیں جو پانچویں دن بھی پھٹی ہوئی آنکھوں سے درو دیوار کو دیکھتے ہیں ، یہ ہر اجنبی شخص کو دیکھ کر کانپنے لگتے ہیں اور چیخ چیخ کر کہتے ہیں ’انکل ہماری ماما کو مت ماریں پلیز انھیں چھوڑ دیں‘
لیکن ان سے بڑا المیہ خاتون ہے جو کہ سارا دن باتھ روم میں گزار دیتی ہے ، یہ اب تک اپنے جسم پر ہزاروں ٹن پانی بہا چکی ہے لیکن اس کے جسم سے اس نظام اس معاشرے کی گھن نہیں اتر رہی ، یہ خود کو پاک نہیں سمجھ رہی اور یہ عورت اس وقت تک پاک نہیں ہو سکے گی جب تک ہم لوگ اس ملک کواور اس معاشرے کو معاشرہ کہتے رہیں گے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے لکھا کہ میں عمر شیخ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں اصل ذمے دار یہ عورت ہے‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ ہمیں انسان اور قبر فروشوں کی اس بستی کو معاشرہ سمجھ بیٹھی تھی ، یہ بڑی بے وقوف تھی جو یہ سمجھ رہی تھی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی انسان بستے ہیں اور یہ انسان عورتوں کو عورت نہیں ماں بہن اور بیٹی سمجھتے ہیں ، یہ سمجھ رہی تھی اس ملک میں قانون بھی ہے چناں چہ یہ اٹھی‘ بچوں کو لیا اور رات کے وقت لاہور سے گوجرانوالہ روانہ ہو گئی اور یہ بھول گئی کہ یہ ریاست بے شک مدینہ کی ریاست ہے لیکن اس میں حضرت عمرفاروق ؓ نہیں ہیں یہاں عورت تو عورت بچے بھی محفوظ نہیں ہیں‘ یہ عورت کتنی بے وقوف تھی؟ یہ درندوں کے اس غار کو معاشرہ سمجھ بیٹھی تھی۔