انسانی جانوں کی حفاظت اولین ترجیح، مہمند میں 53 مائنز کی انسپکشن مکمل کر لی، عارف احمد زئی

مائننگ دوبارہ شروع کرنے کیلئے ایس او پیز تیار، خطرناک مائنز کو حفاظتی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کر دی، معاون خصوصی مائنز اینڈ منرلز

بدھ ستمبر 17:55

پشاور۔23 ستمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 ستمبر2020ء) وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے معدنیات عارف احمد زئی نے کہا ہے کہ انسانی جانوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ مہمند میں پیش آنے والے اندوہناک واقعہ کے بعد وہاں قائم ماربل اور دیگر معدنیات کی کانوں میں کان کنی پر پابندی عائد کر کے 53مائنز کی انسپکشن مکمل کر لی ہے۔

علاقے میں مائننگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایس او پیز تیار کر لیے گئے ہیں جس کے تحت خطرناک مائنز کو حفاظتی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ معدنیات کے مانیٹرنگ افسران محنت اور جانفشانی سے کام کریں اور فرائض سر انجام دہی میں کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے چیف انسپکٹر مائنز خیبرپختونخوا اور مانیٹرنگ آفیسرز کے ساتھ الگ الگ ملاقاتوں میں کیا۔

(جاری ہے)

چیف انسپکٹر مائنز خیبرپختونخوا فضل رازق نے معاون خصوصی کو بتایا کہ سانحہ مہمند کے ساتھ مائنز میں حفاظتی اقدامات کی جانچ پڑتال کے لیے ضلع انتظامیہ، ڈائریکٹوریٹ مائنز اینڈ منرلز اور انسپکٹوریٹ آف مائنز کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی۔ کمیٹی کے اراکین نے علاقے میں 45 لیزز جن میں 75 کے قریب ماربل اور مختلف معدنیات کی کانیں موجود ہیں میں سے 53 کی انسپکشن کی۔

کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں 26 کانوں کو انتہائی خطرناک قرار دیا جبکہ 28 کو کسی حد تک محفوظ اور 9 کو بظاہر محفوظ قرار دیا۔ انسپکشن کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں بظاہر محفوظ قرار دی جانے والی کانوں میں کان کنی دوبارہ شروع کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ تاہم ان کان مالکان کو ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی جائے گی۔ فضل رازق نے بتایا کہ مائنز اور کان کنوں کے لیے ایس او پیز بھی تیار کیے گئے ہیں جس پر عملدرآمد سے کان کنی کے عمل کو بہتر اور محفوظ بنایا جا سکے گا۔

دریں اثنا محکمہ معدنیات کے مانیٹرنگ افسران کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے معاون خصوصی معدنیات نے کہا کہ سانحہ مہمند پر اب بھی دل افسردہ ہے۔ افسران فرائض پر سمجھوتہ کیے بغیر محنت اور جانفشانی سے ڈیوٹی سر انجام دیں۔ انہوں نے کہا محکمہ میں اصلاحات کا عمل شروع ہونے والا ہے جس سے صوبائی ریونیو میں مزید اضافہ ہوگا۔ عارف احمد زئی نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ معدنیات انسپکٹوریٹ کو مزید فعال اور اس کی استعداد میں اضافہ کریں گے۔

متعلقہ عنوان :