اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا مریم نواز کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی اہلکاروں کی بدتمیزی اور صحافی کی گرفتار ی کا نوٹس ، اعلی پولیس افسران طلب

میری طرف سے صحافیوں کو گرفتار کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا، یہ آذادی رائے حقوق کی خلاف ورزی ہے،اظہاررائے کی آزادی پر قدغن لگاکر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا،چیف جسٹس اطہرمن اللہ کے ریمارکس

بدھ ستمبر 19:56

اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا مریم نواز کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 ستمبر2020ء) اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے مریم نواز کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی اہلکاروں کی بدتمیزی اور ہائیکورٹ کے باہر سے نجی چینل سے تعلق رکھنے والے صحافی احتشام کیانی کو گرفتار کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلی پولیس افسران کو طلب کرکیا۔

(جاری ہے)

گذشتہ روز اسلام آبادہائیکورٹ جرنکسٹ ایسوسی ایشن کی طرف سیواقعہ کی شکایت کرنے پرچیف جسٹس اطہر من اللہ نے پولیس کے اعلیٰ حکام کو فوری طلب کر لیا اورریمارکس دیئے کہ میری طرف سے صحافیوں کو گرفتار کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا یہ آذادی رائے حقوق کی خلاف ورزی ہے،اظہاررائے کی آزادی پر قدغن لگاکر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا، دوران سماعت ایس پی سرفرازورک عدالت پیش ہوئے اور بتایاکہ واقعہ ہواہے اور تفتیش کیلئے صحافی کو تھابہ منتقل کیاگیا اس سے اسلحہ برآمدگی کی خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے سینئر ایس پی زبیر شیخ وہاں ڈیوٹی پر موجودتھے، ایس پی سرفراز ورک نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ معاملہ درست کرلیں گے اور آئندہ کوئی شکایت نہیں ہوگی جس پر ازاں بعد چیف جسٹس کی مداخلت پر صحافی کو رہا کر دیا گیا، ادھر مذکورہ صحافی احتشام کیانی نے رہائی کے بعد اسلام آبادہائیکورٹ میں آمدپر بتایاکہ ایس پی زبیر شیخ نے نارواسلوک کیااورایس پی زبیر شیخ کی جانب سے تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا،اسلحہ رکھنے کا جھوٹا الزام لگایا گیا جس کی تردید کرتا ہوں،مجھے تھانے میں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا،موبائیل پرس اور دیگر سامان ضبط کر لیا گیا،بارہا درخواست پر بھی اہل خانہ اور دفتر سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی،ڈیڑھ گھنٹے تک تھانے 9میں رکھ کر ہراساں کیا گیا۔