ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دوماہ میں 40 ارب روپے سے زائد کے ریفنڈز کی ادائیگی کی گئی، نبیلہ فاران بیگ

بدھ ستمبر 20:28

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دوماہ میں 40 ارب روپے سے زائد کے ریفنڈز کی ..
ملتان ۔23 ستمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 ستمبر2020ء) ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ صرف دوماہ میں وبائی صورتحال اورکاروباری سرگرمیوں میں شدید تعطل کے باوجود ٹیکس گزاروں کو40ارب روپے سے زائد کے ریفنڈزاداکئے گئے ۔چیف کمشنر ان لینڈریونیوریجنل ٹیکس آفس (آرٹی او)ملتان نبیلہ فاران بیگ نے نے آل پاکستان بیڈشیٹ اینڈاپ ہولسٹری ایسوسی ایشن (ایپبیوما)کی طرف دیئے گئے استقبالیہ میں خطاب کرتے ہوئے ہوئے مزیدکہاکہ کوشش ہے کہ کاروباری سیکٹرکے آرٹی اوکی سطح کے مسائل فوری حل کئے جائیں ،ہماری بھرپورکوشش ہے کہ ہم ٹیکس گزاروں کے مسائل حل کرکے اوران کوسہولیات مہیاکرکے اورکارکردگی میں اضافہ کرکے بہترین سول سرونٹ ہونے کاثبوت دیں ۔

انہوںنے کہاکہ فاسٹرسسٹم میں مزید بہتری لارہے ہیں صنعتی وتجارتی سیکٹرکے مسائل اب حل بھی ہورہے ہیں ۔

(جاری ہے)

تاہم اگرآرٹی او آناضروری ہوتواپنے یونٹ آفیسرزسے ضرورملیں پھربھی مسئلہ حل نہ ہوتوہمارے دروازے ہروقت کھلے ہیں ،آپ کے مسائل کے حل کے لئے آرٹی او میں فوکل پرسن بھی تعینات کیاجارہاہے ۔ایپبیوماکاایک نمائندہ آرٹی او کی ایڈوائزری کمیٹی میں شامل کیاجائے گاتاہم اب کاروباری سیکٹرکی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹیکسزکی بروقت ادائیگی کویقینی بنائیں اورنئے ٹیکس گزاروں کو بھی سامنے لائیں ۔

اس موقع پرایڈیشنل کمشنرززاہد ہ سرفراز کمشنر انکم ٹیکس ملتان زون پیرخالد احمد قریشی ودیگربھی موجودتھے ۔ایپبیوماکے سابق چیئرمین احسن شاہ ،ایوان تجارت وصنعت ملتان کے سابق صدرخواجہ یوسف ودیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ محسوس کیاگیاہے کہ جن اداروں میں خواتین کام کرتی ہیں وہاں مسائل کے حل کی طرف زیادہ توجہ دی جاتی ہے امیدہے چیف کمشنران لینڈریونیو اس خطہ کے کاروباری سیکٹرکے مسائل کابھی جلد خاتمہ کرکے شکریہ کاموقع دیں گی ۔

انہوںنے کہاکہ عوام ٹیکس دیناچاہتے ہیں لیکن اس کے لئے اعتماد اورسہولیات کافضاء کاہونابہت ضروری ہے ۔سب جانتے ہیں کہ ٹیکسزکی ادائیگی سے ہی ملک میں ترقیاتی کام ہوں گے ۔یہاں کے کاروباری سیکٹرکو سیلز ٹیکس کے معاملات پربہت سے مسائل کاسامنا ہے ان کو فوری حل کرنے کی ضرورت ہے ۔چیئرمین ایپبیوما سید محمد احسن شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایس ایم ایز سیکٹرکوسیلز ٹیکس ریفنڈزکی ادائیگی میں ترجیح دی جائے ،فاسٹرسسٹم کے بعد بھی ریفنڈزکی ادائیگی میں بہت دشواریاں ہیں ،اربوں کے ریفنڈزتجربات کی بھینٹ چرھ گئے ہیں ۔

آرٹی اوکی سطح پرڈیفرڈ کیسز کی تعدادبڑھ رہی ہے ان کوختم کیاجائے ۔برآمدکنندگان کوبے جاتنگ نہ کیاجائے ۔ہمارے ممبران کو(STGO)ایس ٹی جی او کاحصہ بنایاجائے تاکہ بجلی کے رعایتی نرخوں کوفائدہ اٹھاسکیں ۔اورٹیکس گزاروں کو ایک بااثر پلیٹ فارم مہیاکیاجائے اس کے لئے اے ڈی آرسی (ADRC)کوفعال کیاجائے اسے ازسرنو منظم کرکے مسائل کے حل میں معاون بنایاجائے ۔

متعلقہ عنوان :