تاجدار کائنات حضرت محمدؐرحمت اللعالمین خاتم النبین اور پیغمبر امن بن کر تشریف لائے ،ڈاکٹر محمد طاہر القادری

اقتدار اللہ کی امانت ہے حکمران اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں رعایا کے بارے میں سوال ہو گا اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے،میلا کانفرنس سے خطاب

پیر اکتوبر 18:22

تاجدار کائنات حضرت محمدؐرحمت اللعالمین خاتم النبین اور پیغمبر امن ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 اکتوبر2020ء) تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل کراچی کے زیر اہتمام باغ جناح میں منعقدہ عالمی میلاد کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بانی تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل عالم اسلام کے عظیم مفکر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا کہ ہزاروں اہلیان کراچی نے تحریک منہاج القرآن کی میلاد کانفرنس میں شرکت کر کے نفرتوں کے بتوں کو پاش پاش کردیا ہے اور محبتوں کے پھول جھولیاں بھر کے لیکر جائیں گے اتنی بڑی تعداد میں اہلیان کراچی کا میلاد کانفرنس میں آنا اپنے نبی ؐ سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

شہر کراچی فرزندان اسلام ،غلامان مصطفیؐ،عاشقان رسول کا شہر ہے جن کا محور و مرکز اللہ اور اسکے رسول کی ذات ہے ۔ہمیں مزار قائد کے سائے عہد کرنا ہو گا ہم ملک و ملت بالخصوص شہر کراچی کے امن اور روشنیوں کو بحال رکھیں گے شہر کراچی سمیت کے کونے کونے سے نفرتوں کے بتوں کو توڑ کر امن محبت بھائی چارگی کی شمع روشن کریں گے۔

(جاری ہے)

تحریک منہاج القرآن تجدید ی ،علمی تحریک ہے جس کا مقصد انسانیت کو جوڑنا ہے ہمارے ہزاروں ادارے دنیا بھر میں جہالت کے اندھیرے ختم کر رہے ہیں۔

پیغمبر خدا کا پیغام امن ،محبت ،بھائی چارگی ہے محمد کا غلام اور امتی کبھی دہشت گرد ،انتہا پسند نہیں ہو سکتا انسانی جان کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے اسلام نے نا حق فساد پھیلانے ،قتل عام کی ممانعت فرمائی ہے ۔وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے عوامی اور قومی املاک کو نقصان پہنچانا ،انسانیت کو تکلیف دینا نبی کی تعلیمات نہیں ہیں ۔تعلیمات مصطفیؐ نے انسانیت کو جہالت کے اندھیروں سے نکالا اور اسلام کی روشنی سے پورے عالم کو منور کیا ۔

انسانیت کی خدمت ہی عظیم عبادت ہے وہ انسان کبھی مومن نہیں ہو سکتا جس کے ہاتھ اور زبان کے شر سے دوسرے مسلمان محفوظ نہ ہوں ۔تاجدار کائنات ؐ نے حجتہ الودع کے موقع پر انسانیت کے حقوق کا سب سے بڑا اور واضع منشور پیش کیا ۔تاجدار کائنات ؐ کی شان میں گستاخی کائنات انسانی کا سب سے بڑا گناہ ہے ایسا کرنے والا ملعون اور جہنمی ہے ۔مغربی دنیا میں آزادی اظہار کی تشریح غلط ہے مقدس ہستیوں کی شان میں بے ادبی دنیا کا کوئی مذہب اجازت نہیں دیتا ۔

ہم تمام حضرت آدم ؑ کی اولاد ہیںتمام انسان برابر ہیں بڑائی صرف تقویٰ اور پرہیزگاری میں ہے اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے ۔اسلام کا اقتصادی نظام منفرد اور شاندار ہے مسلم ممالک بالخصوص پاکستان سودی نظام کا خاتمہ کرے ،متبادل نظام موجود ہے مگر حکمرانوں اہل ہوں تو سارے مسائل ہو سکتے ہیں ۔اسلام نے حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد کی ادائیگی پر زیادہ زور دیا ہے ہمسائے اور رشتہ داروں کے سب سے زیادہ حقوق ہیں ۔

مسلم امہ اس وقت انتشار کا شکار ہے باطل کے مقابلے میں مسلم وحدت پارہ پارہ ہے اتحاد و یکجہتی کا فقدان ہے کمزوریوں کو دور کرنا ہو گا۔اقتدار اللہ کی امانت ہے حکمران اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں رعایا کے بارے میں سوال ہو گا اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے ۔لوگ انصاف کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیںاعلیٰ عدلیہ مظلوموں کو جلد انصاف دینے کیلئے اپنے انصاف کے سسٹم کو متحرک کرے۔

عدل و انصاف اسلام کی بنیاد ہے عدل و انصاف سے معاشرے مہذب اور ترقی یافتہ بنتے ہیں اور انسانیت کو تحفظ ملتا ہے ۔مسلمان لین دین ،کاروبار،تجارت میں اللہ اور اسکے رسول ؐ کی تعلیمات کو سامنے رکھیں قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔اسلام امن محبت سلامتی بھائی چارے کا دین ہے اسلام کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ساتھ جوڑنا تعصب اور بددیانتی ہے ۔

ہم سب کا ایک خدا،ایک رسول،ایک قرآن ،ایک نبی،ایک کعبہ اور مذہب اسلام ہے پھر ہم الگ الگ کیوں ہیں مسلم امہ کو فرقوں میں بٹنے کے بجائے اتحاد و یکجہتی کا دامن تھامنا ہو گا ۔نوجوان مسلم امہ کا سرمایہ ہیں ان پر بھاری ذمہ داری ہے ۔نوجوان ،انتہا پسندی اور تفرقوں سے دور رہیں ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیں ۔مادیت پرستی ،بد تہذیبی نے مسلم نوجوانوں کو جکڑ رکھا ہے اس وقت نسل نو کی صحیح سمت رہنمائی ضروری ہے بے روزگاری نے نوجواںکو کمزور کر دیا ہے ۔

علماء انبیا ء کے وارث ہیں ،علماء محراب و منبر ،خطاب اور اپنی تحریر کو معاشرے اصلاح کیلئے استعمال کریں نئی نسل کو گمراہی سے بچائیں ۔علماء کی ذمہ داری ہے وہ امت کو تفرقوں ،نفرتوں ،کفر کے فتووں سے بچائیں اور امن و محبت ایثار قربانی اتحاد و یکجہتی کا درس دیں اور ایک دوسرے کے افکار کا احترام کریں ۔ریاست مدینہ میں شہریوں کی جان مال عزت آبرو سب محفوظ تھا وہاں ہر ایک کیلئے جلد انصاف تھا ہمارے ملک میں ریاست مدینہ کے نام پر مذاق ہو رہا ہے ۔

تحریک منہاج القرآن کی میلاد کانفرنس میں ہزاروں مردو خواتین کی شرکت شہر کراچی کی فضا درود و سلام سے گونج اٹھی۔تحریک منہاج القرآن کی میلاد کانفرنس میں تمام مکاتب فکر دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی ، کانفرنس میں اہم سیاسی ،سماجی،مذہبی ،دینی جماعتوں کی شرکت ۔تحریک منہاج القرآن کی میلاد کانفرنس باغ قائد میں سیکورٹی کے سخت انتظامات،تھے پولیس ،رینجرز اور یوتھ کے نوجوان الرٹ تھے۔تحریک منہاج القرآن کی میلاد کانفرنس باغ قائد میں خواتین کی سیکورٹی کیلئے لیڈی پولیس اور ایم ایس ایم سسٹرز موجود تھیں ۔