فرانسیسی صدرکے حکم پر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت زمین پر سب سے بڑی دہشتگری ہے،ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی

تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کا حکومت سے مطالبہ ہے فرانس سے اپنے سفیر کو فی الفور واپس بلاکر فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے، فرانس کی مصنوعات کا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا جائے،بیان

بدھ اکتوبر 20:44

فرانسیسی صدرکے حکم پر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت زمین پر سب سے بڑی دہشتگری ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 28 اکتوبر2020ء) تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے اسیر سربراہ ا ورتحریک صراط مستقیم کے بانی ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے فرانس میںگستاخانہ خاکوں اور پشاورمیں بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی صدرکے حکم پر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اس زمین پر سب سے بڑی دہشتگری ہے ۔

فرانسیسی ملعون صدر کے اس سیاہ کارنامے سے مسلمانوں کے دل چھلنی ہوگئے ہیں۔ ۔گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے امن عالم کوبرباد کرنے کی گہری سازش کی گئی ہے۔تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کا حکومت پاکستان سے مطالبہ کہ فرانس سے اپنے سفیر کو فی الفور واپس بلاکر فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے اور فرانس کی مصنوعات کا مکمل طور پر بائی کاٹ کیا جائے ۔

(جاری ہے)

اسلام پر دہشت گردی کا الزام لگانے کیلئے غیرمسلم قوتوں نے کچھ اُجرتی دہشتگرد پال رکھے ہیں۔دشمنان اسلام اس سے دہرا فائدا حاصل کرتے ہیں۔ ایک تو اس سے مسلمانوں کا جانی اور مالی نقصان کرواتے ہیں اور دوسرے مسلمانوں کودہشت گرد کہنے کیلئے جواز بناتے ہیں۔شریعتِ محمدی ﷺ میں چڑیوں اور چیونٹیوں کے حقوق اور انکے تحفظ کے ضابطے موجود ہیں ایک مسلمان کے خون کو کعبة اللہ سے بھی مقدس قرار دیا گیا ہے۔

خونِ مسلم کی حرمت پامال کرنے والوں کا شریعتِ محمدی ﷺ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پاکستان میں آنے جانے والی حکومتیں کسی نہ کسی سطح پر دہشت گردوں کے ساتھ رابطہ میں رہتی ہیں اور اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کیلئے ملک وقوم کی سلامتی کے ساتھ کھیلنے والے ان بھیڑیوں کا شکنجہ ڈھیلا کردیتی ہیں۔جب دہشت گردوں کے سہولت کار حکومت کی بغلوں میں چھپے ہوں تو اس کا رزلٹ کبھی بھی اچھا نہیں ہو سکتا۔دہشگردوں کے نیٹ ورک اور انکی نرسریوں کو ختم کیے بغیر امن ممکن نہیںہے۔پاکستان کا چپہ چپہ لہو لہان ہوچکا ہے دہشتگرد ایک ایک شہر کو کئی کئی بار خون میں نہلا چکے ہیںسرحدوں سے ہونے والی دراندازی اور بھارتی فنڈنگ سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے ۔