پراکسی وار شرع ہو چکی،بھارت نے پاکستان کو تباہ کرنے کے لیے بلین ڈالر انویسٹ کردیے

ملک کی ٹاپ لیڈرشپ کے ذریعے ریاستی اداروں پر الزام تراشی کی جائے گی،رحمٰن ملک

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعہ اکتوبر 06:05

پراکسی وار شرع ہو چکی،بھارت نے پاکستان کو تباہ کرنے کے لیے بلین ڈالر ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اکتوبر2020ء) گزشتہ روز نیشنل اسمبلی کے اجلاس میں ن لیگ کے راہنما ایاز صادق نے جس قسم کا بیان دیا ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔اگرچہ وہ اپنے بیان کی وضاحت بھی دے چکا ہے مگر جو تیر کمان سے نکل جائے وہ واپس نہیں آتا اسی طرح یہ تیر بھی کمان سے نکل گیااور بھارتی میڈیا نے اس بیان کو جس طرح پیش کیا وہ ہماری ملکی سالمیت پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

یہ ایسا موقعہ آ چکا ہے کہ ہمارے ٹاپ سیاسی لیڈرشپ ریاستی اداروں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔اس حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں ہیں۔ایک تو اپنے سیاسی بیانیہ کو ترویج دینے کی خاطر اس قسم کے بیان دیے جا رہے ہیں جبکہ دوسرا یہ کہ ملک دشمن عناصر ایکٹو ہو چکے اور وہ ہماری ٹاپ لیڈرشپ کو ہی اپنا آلہ کار بنا چکے ہیں۔

(جاری ہے)

اسی حوالے سے سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ بدقسمتی سے ملک دشمن عناصر لابنگ کر چکے ہیں اور سازش کو کامیاب کرانے کے لیے بلین ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کر دی گئی ہے۔

آنے والے دنوں میں ملک کے ایسے بڑے لیڈر جو امن بحال کرنے میں بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں ان کو استعمال کریں گے اور ملک کا امن برباد کریں گے۔یہ ایسی پراکسی وار ہو گی ملک کے اداروں کی ساکھ خراب کی جائے گی۔رحمٰن ملک کا کہنا تھا کہ میری معلومات کے مطابق ہمارے ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے تین بلین ڈالر کی رقم انویسٹ کی گئی ہے۔

یہ رقم کیسے آئی کس کو دی گئی اور ہمارے ملک میں کن سے ایسے ایجنٹ ہیں جو یہ کام کر سکتے ہیں یہ دیکھنا ہو گا۔ پروپیگنڈا مہم عروج پر ہو گی اور اداروں پر الزام تراشی کی جائے گی تاکہ ملک میں عدم استحکام پیدا ہو۔اس وقت انڈیا داعش کے ساتھ بھی تعلقات قائم کر چکا ہے اور اس نے داعش اور طالبان کے درمیان بھی تعلق قائم کرا دیا ہے اور ان کو بھاری پیسے بھی دے رہا ہے۔رحمٰن ملک نے اپنی معلومات کے مطابق پاکستان کے عوام کو سچ بتا دیا۔اب یہ ہمیں دیکھنا ہے کہ ملکی اداروں کی ساکھ پر اٹھنے والے سوالوں کا جواب کیسے دینا ہے اور حالات کو دگرگوں ہونے سے کیسے بچانا ہے۔