پاکستان کا فرانس کے شہر نیس میں ہونے والے حملے پر ردعمل

عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا،ایسے پرتشدد واقعات کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا،قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کی فرانس کے شہر نیس میں حملے کی شدید مذمت

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ اکتوبر 12:26

پاکستان کا  فرانس کے شہر نیس میں ہونے والے حملے پر ردعمل
پیرس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اکتوبر2020ء) پاکستان نے فرانس کے شہر نیس میں ہونے والے حملے پر ردعمل دیا ہے۔پاکستان نے فرانس کے شہر نیس میں حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ فرانس کے شہر نیس کے ایک گرجا گھر میں حملے کے دوران قیمتی جانوں کے ضیاع پر رنج و غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا بھی اظہار کیا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا اور ایسے پرتشدد واقعات کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ روز ایک نوجوان چرچ میں گھس کر فرانسیسیوں پر چاقو سے حملہ آورہواجس کی ساری دنیا کے مسلمانوں نے بھی مذمت کی۔مگر اس واقعے کو بنیاد بنا کر ایمانول میکرون نے مسلمانوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کرنے کا عندیہ دیا۔

(جاری ہے)

گزشتہ روز گفتگو کرتے ہوئے میکرون کا کہنا تھا کہ فرانس پر حملہ ہو چکا ہے اور ہمیں اسے بچانا ہے۔

میکرون نے بات کرتے ہوئے کہ”یہ فرانس پر ہی حملہ ہے اور یہ مسلم انتہا پسندی کا شاخسانہ ہے۔میں پولیس کو حکم دیتا ہوں کہ وہ فرانس کی حفاظت کرے،میں سبھی اسکول اور چرچ کے باہر ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کروں گا تاکہ ایسے واقعے دوبارہ نہ ہوں“۔ کوئی اس عقل کے اندھے کو سمجھائے کہ تالاب سے باہر نکلنے والے پانی کو روکنے کے لیے تالاب میں چلتی ٹوٹی بند کرنا زیادہ ضروری ہے وگرنہ تالاب کی حفاظتی دیواریں جتنی اونچی اور مضبوط ہوتی چلی جائیں پانی کو بہنے سے نہیں روک سکتیں۔

اگر میکرون فرانس میں امن چاہتا ہے اور معاشی حوالے سے بھی ترقی کا خواہاں ہے تو مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کا خاتمہ کرے اور ساری امت مسلمہ سے معافی مانگتے ہوئے آئندہ اپنے ملک میں ناموس رسالتﷺ کے حوالے سے کوئی بھی واقعہ پیش نہ آنے دے۔