Live Updates

سعودی عرب اور یو اے ای بھجوانے کے نام پر پاکستانیوں سے بڑا دھوکا ہونے لگا

اخبارات میں فرضی نوکریوں کے اشتہارات کے نام پر لوگوں کا لُوٹا جا رہا ہے، دوبارہ پروٹیکٹوریٹ لگوانے کی آڑ میں بھی اضافی فیس وصول کی جا رہی ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر نومبر 16:33

سعودی عرب اور یو اے ای بھجوانے کے نام پر پاکستانیوں سے بڑا دھوکا ہونے ..
دُبئی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔30 نومبر2020ء) اگرچہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانیوں کے ویزے کے اجراء پر عارضی پابندی لگائی گئی ہے تاہم بہت سے جعلساز مجبور پاکستانیوں کو دھوکا دے کر ان سے بڑی رقوم لوٹ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب جانے کے خواہش مندوں سے بھی بڑا دھوکا ہو رہا ہے۔ پاکستان بیورو آف امیگریشن کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ اس وقت بیرون ملک جانے کے خواہش مند افراد کو جن طریقوں سے لْوٹا جا رہا ہے۔

ان میں سب سے بڑا طریقہ واردات یہ ہے کہ اخبارات میں فرضی نوکریوں کے اشتہارات جاری کیے جاتے ہیں اور لوگوں سے ان نوکریوں پر بیرون ملک بھجوانے کا جھانسہ دے کر پیسے بٹورے جا رہے ہیں۔اُردو نیوز کے مطابق دوسرا فراڈ یہ ہو رہا ہے کہ جنہوں نے کورونا وبا سے پہلے بیرون ملک جانے کے پروٹیکٹوریٹ سمیت دیگر دستاویزات مکمل کر لیں تھیں ان سے دوبارہ پروٹیکٹوریٹ فیس اور دیگر اخراجات کے نام پر پیسے بٹورے جا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

تیسری قسم کی دھوکا دہی کے تحت امارات کی جانب سے دوبارہ ویزوں پر پابندی کے اعلان کے باوجود شہریوں کو کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ اضافی رقم دیں تو ان کے لیے ویزے نکلوائے جا سکتے ہیں۔حکام کے مطابق ’جب بھی اخبارات میں کسی بھی بیرون ملک نوکری کا اشتہار کسی اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر یا ریکروٹنگ ایجنسی سے دیکھیں تو اس پر پرمیشن نمبر لازمی دیکھیں اور اس کی بیورو آف امیگریشن کی ویب سائٹ پر فارن جابز کے پورشن میں جا کر تصدیق کریں۔

صرف یہی نہیں بلکہ اشتہار اور ویب سائٹ پر ملازمت کی نوعیت، تنخواہ، رہائش اور ملازمت کے مقام وغیرہ کی بھی تسلی کر لیں۔‘بیورو آف امیگریشن نے کہا ہے کہ کسی بھی ایسے فرد جس کا کورونا سے پہلے پروٹیکٹوریٹ لگ چکا تھا لیکن وہ بیرون ملک نہیں جا سکا تھا اور اب اسے دوبارہ پروٹیکٹر لگوانا ہے تو اسے مفت میں لگا کر دیا جائے گا اس حوالے سے کسی بھی ایجنٹ یا اوورسیز پروموٹر کو کوئی فیس ادا نہ کی جائے اور اگر کوئی تقاضا کرے تو بیورو آف امیگریشن کو شکایات درج کرائی جائے۔
کرونا وائرس کی دوسری لہر سے متعلق تازہ ترین معلومات