خاتون نے اپنی زندگی بلیوں کے لیے وقف کر دی،گھر میں500بلیاں اکٹھی کر لیں

ماہانہ 12لاکھ روپے پاکستانی خرچ کر کے خاتون ان آوارہ بلیوں اور کتوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں

Sajjad Qadir سجاد قادر منگل دسمبر 06:07

خاتون نے اپنی زندگی بلیوں کے لیے وقف کر دی،گھر میں500بلیاں اکٹھی کر لیں
عمان: (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 دسمبر 2020ء)   انسانیت کی کئی ایسی مثالیں دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں کہ انسان جان کر دنگ رہ جاتا ہے۔انسانوں کے اس معاشرے میں جہاں کئی سنگدل اور ظالم قسم کے انسان بستے ہیں وہاں کئی خوف خدا رکھنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔ایسی ہی ایک خوف خدا رکھنے والی خاتون نے اپنے گھر کو آوارہ بلیوں اور کتوں کی آماجگاہ بنا لیا ہے۔

مسقط کی مریم البلوشی کی شہرت اس وقت دنیا بھر میں پہنچ چکی ہے۔ ان کا گھر 500 لاوارث بلیوں اور کتوں کا مسکن ہے جہاں سارے جانور سکون سے رہتے ہیں۔ تاہم مریم کو ان کی دیکھ بھال پر ہر ماہ 8000 ڈالر یعنی 12 لاکھ پاکستانی روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔51 سالہ مریم سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوچکی ہیں۔ عمان میں واقع ان کے گھر میں 480 بلیاں اور 12 کتے ہیں۔

(جاری ہے)

یہ سب انہوں نے دوسری جگہ سے جمع کئے ہیں جہاں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ تھا۔

2008 میں انکا بیٹا ایک فارس کی بلی لے کرآیا لیکن جلد اس سے لاپرواہ ہوگیا۔ 2011 میں مریم پر ڈپریشن کے دورے پڑے تو اس وقت وہ بلی سے اپنا دل بہلاتی اور یوں انہوں نے بے گھر بلیوں کو اپنے گھر میں پناہ دینے کا ارادہ کرلیا۔ اب ان کے پاس 500 کے قریب بلیاں اور کتے موجود ہیں۔ مریم البلوشی کا کہنا ہے کہ’اللہ نے ہمیں زبان، شعور اور وسائل دیئے ہیں، یہ جانور تو بھوک ، بیماری، یہاں تک خطرے میں بھی ہم سے بات نہیں کرسکتے۔

وہ کہتی ہیں کہ لوگ پرتعیش دعوتیں کرتے ہیں لیکن کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں ان جانوروں کی سنوائی ہو اور نہ ہی خلیجی ممالک میں جانوروں کے تحفظ کا کوئی قانون موجود ہے۔اب یہ حال ہے کہ سینکڑوں جانوروں کا خیال وہ خود رکھتی ہیں۔ ان کے کھانے پر ہر ماہ لاکھوں خرچ کرتی ہیں اور انہیں ہسپتال بھی لے جاتی ہیں۔ تاہم اب کچھ لوگوں نے ان کی مدد کے لیے عطیات دینا شروع کردیئے ہیں۔مریم نے لوگوں کو پیغام دیا ہے کہ لوگ ان جانوروں کو گھرمیں نہیں رکھنا چاہتے، نہ ہی سڑکوں پر، نہ ہی اپنے کار کے پاس اور نہ ہی کوڑے دانوں پر تو پھر یہ بے زبان مخلوق کہاں جائے؟ اللہ نے یہ زمین صرف ہمارے لیے نہیں بنائی ہے بلکہ ان جانوروں کے لیے بھی ہے۔ اس سیارے پر ہر جاندار کو رہنے کا حق ہے۔

متعلقہ عنوان :