پنجابی کے معروف شاعر استاد دامن کواپنے مداحوں سے بچھڑے 36 برسی بیت گئے

بدھ دسمبر 13:27

پنجابی کے معروف شاعر استاد دامن کواپنے مداحوں سے بچھڑے 36 برسی بیت گئے
شیخوپورہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 دسمبر2020ء) پنجابی کے معروف شاعر استاد دامن کواپنے مداحوں سے بچھڑے 36 برسی بیت گئے ان کے مداح( آج)3دسمبرکو ان کی 36 وی برسی منائے گے اس سلسلے میں ادبی حلقوں کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنسز اور دیگر تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا جن میں استاد دامن کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

استاد دامن کا اصل نام چراغ دین تھاجبکہ دامن ان کا تخلص تھا انہیں شاعری کا شوق بچپن سے ہی تھا استاد دامن پنجابی زبان کے ایسے قادر الکلام شاعر تھے جن کا کلام کتابی صورت میں بھی دستیاب ہے لیکن ان کی شاعری عوام کو آج بھی یاد ہے اس لیے انہیں عوامی شاعر کا لقب دیا گیا تھا استاد دامن کی سب سے بڑی خوبی اس ن کی فی البدیہہ شعر گوئی تھا استاد دامن کی شاعری میں تصوف،لوک رنگ،سیاست اور دنیا کے دیگر موضوعات کا ہر رنگ ملتا ہیعروف ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض مرحوم بھی استاد دامن کے مداحوں میں شامل تھے۔

استاد دامن نے فلموں کیلئے بھی گیت لکھے ان کے پنجابی زبان کے یہ گیت ’’ مینوں دھرتی قلعی کرادے میں نچاں ساری رات ‘‘ اور نہ میں سونے دی نہ چاندی دی میں پیتل بھری پرات ‘‘ بے حد مقبول ہوئے۔استاد دامن 3دسمبر 1984ء کو انتقال کر گئے تھے

متعلقہ عنوان :