تبدیلی سرکار میں بھی کرپشن کے چور دروازے بند نہ ہو سکے

من پسند ٹھیکیداروں کو کروڑوں روپے کی ادائیگی،کرپشن کی نئی داستانیں رقم،آڈیٹر جنرل کی رپورٹ

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعرات فروری 05:03

تبدیلی سرکار میں بھی کرپشن کے چور دروازے بند نہ ہو سکے
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 فروری2021ء)  تبدیلی سرکار میں بھی کرپشن کے چور دروازے بند نہ ہو سکے بلکہ کرپشن کی ایسی طلسم ہوشربا داستانیں سامنے آ رہی ہیں کہ ان پر انکوائری کمیٹی بٹھانے یا فرانزک رپورٹ لینے کی ضرورت بھی نہیں ہے کہ صاف صاف نظر آ رہا ہے کہ واردات ڈالی گئی ہے۔پی ٹی آئی حکومت نے انتخابات کے وقت جس قدر بھی پاکستانی عوام سے وعدے کیے تھے یا اپنے منشور کے حوالے سے نعرے بلند کیے تھے آج سب کچھ اس کے الٹ ہو رہا ہے ا ور اس قسم کا تاثر جھلک رہا ہے کہ پی ٹی آئی نے صاف شفاف کے نعرے عوام کو لالی پاپ دینے کے لیے لگائے تھے کیونکہ آج کرپشن سے لے کر مہنگائی تک اور ملازمتوں سے لے کر عام عوام کی سہولتوں سے متعلق ایک بھی پراجیکٹ میدان میں نہیں ہے۔

ابھی تازہ ترین رپورٹ میں بھی کرپشن کی ناقابل یقین داستان سامنے آ گئی ہے۔

(جاری ہے)

جس میں  تعمیراتی کاموں میں ٹھیکیداروں کو قومی خزانے سے نوازے جانے کا انکشاف سامنے آگیاہے، موجودہ دور حکومت میں ٹھیکیداروں کو 45 کروڑ روپے کے نامناسب مالی فوائد دئیے گئے ہیں۔آڈیٹر جنرل پاکستان کی پہلے اور دوسرے مالی سال کی آڈٹ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے۔ جس کے مطابق تعمیراتی کاموں میں ٹھیکیداروں کو قومی خزانے سے نوازے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

حکومت نے ٹھیکیداروں کو 45 کروڑ کے نامناسب مالی فوائد دئیے۔ لاہور، ڈی جی خان اور فیصل آباد میں تعمیراتی کاموں میں ٹھیکیداروں کو نوازا گیا۔ لاہور میں ٹھیکیداروں کو 36 کروڑ 56 لاکھ روپے کے فوائد دئیے گئے۔ چک بندی ڈویژن اور ڈویلپمنٹ ڈویژن نمبر ٹو میں فوائد دئیے گئے۔ رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ ڈی جی خان میں مظفر گڑھ، تونسہ ڈویژن نے ایک کروڑ کے مالی فوائد دئیے۔ فتح جھنگ، گجرات، سرگودھا، قصور میں کروڑوں کے فوائد سامنے آئے ہیں۔ مالی فوائد اضافی نرخوں کے عوض براہ راست ٹھیکیداروں کو دئیے گئے ہیں۔ آڈیٹر جنرل کی متعلقہ ڈویژن آفیسرز سے نامناسب مالی فوائد دینے پر کارروائی کی سفارش کردی ہے۔