ملک میں کاٹن کی پیداوار 30سال کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے ‘عامر رزاق

حکومت شجر کاری کے ساتھ زراعت سے وابستہ افراد کے لیے بھی اقدامات کرے ‘صدر پیس فار لائف

بدھ مارچ 13:17

ملک میں کاٹن کی پیداوار 30سال کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے ‘عامر رزاق
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 مارچ2021ء) پیس فار لائف کے صدر میاں عامر رزاق نے کہا ہے کہ پاکستان میں مسلسل تیسرے سال بھی کاٹن کی پیداوار میں کمی تشویشناک ہے، جنوری تک 34فیصد کمی سے صرف 5.5ملین بیلز کی پیداوار ہوئی ہے جو گزشتہ سال سے 3ملین بیلز اور 30برسوں میں سب سے کم ہے،محسوس ہوتا ہے کہ جیسے زراعت جیسا اہم شعبہ بھی حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں۔

ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے مختلف عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ زراعت ملکی معیشت میں 80فیصد حصے کے ساتھ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور المیہ یہ ہے کہ سابقین نے اس شعبے سے وابستہ افراد کو ریلیف فراہم کیا اور نہ ہی موجودہ حکمران اس کے لیے کچھ کررہے ہیں۔ کاشتکاروں کے مسائل دن بدن بڑھتے چلے جارہے ہیں۔

(جاری ہے)

کسانوں کے مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کیا جانا چاہیے ۔

انہیں زیادہ سے زیادہ مراعات دی جائیں۔ نقلی بیج اور ادویات کی سپلائی کو روکنا حکومت کا کام ہے مگر وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مسلسل ناکام دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک کے زرعی ریسرچ کے اداروں نے کوئی نمایاں کام نہیں کیا ہے ان کو فعال کرنے کی از حد ضرورت ہے۔ کپاس ، گندم اور گنے کے کاشتکاروں کے ساتھ ہونے والا ناروا سلوک شرمناک ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک شعبہ زراعت پر خصوصی توجہ دیتے ہیں مگر بدقسمتی سے پاکستان میں الٹی گنگا بہتی ہے۔

متعلقہ عنوان :