ملک میں ایک مرتبہ پھر پیٹرول بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا

اوگرا کی وارننگ کے باوجود آئل مارکیٹنگ کمپنیاں پیٹرولیم مصنوعات کے طے کردہ ذخائر محفوظ کرنے میں ناکام، ذرائع

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری بدھ اپریل 20:02

ملک میں ایک مرتبہ پھر پیٹرول بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ، تازہ ترین اخبار، 7 اپریل 2021) اوگرا کی وارننگ کے باوجود آئل مارکیٹنگ کمپنیاں پیٹرولیم مصنوعات کے طے کردہ ذخائر محفوظ کرنے میں ناکام ہو گئیں، ملک میں ایک مرتبہ پھر پیٹرول بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو متعدد مرتبہ وارننگ جاری کی جاتی رہے کہ وہ اوگرا کی جانب سے طے کردہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اپنے پاس محفوظ کریں، تا کہ ملک میں پیٹرولیم بحران کا خدشہ پیدا نہ ہو۔

تاہم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اوگرا کی جانب سے جاری کی جانے والی وارننگز کو ہوا میں اُڑا دیا، جس کے بعد اب ملک میں ایک مرتبہ پھر پیٹرول بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ملک میں متوقع پیٹرول بحران کے پیش نظر اوگرا نے ایک مرتبہ پھر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو وارننگ جاری کر دی ہے۔

(جاری ہے)

اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ لائسنس شرائط کے مطابق نہ رکھنے پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو وارننگ جاری کر دی ہے۔

اوگرا حکام نے کہا ہے کہ تمام کمپنیاں 20 روز کا پٹرول ذخیرہ رکھنے کی پابند ہیں، ذخیرہ 20 روز کا نہ ہوا تو کارروائی کی جائے گی، اس لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اپنا ذخیرہ لائسنس شرائط کے مطابق رکھیں۔اوگرا ذرائع نے کہا ہے کہ پٹرول کا 2 لاکھ 97 ہزار 882 میٹرک ٹن کا ذخیرہ موجود ہے، جو کہ 12 روز کی ملکی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے، جب کہ اس وقت ڈیزل کا 17 روز کا ذخیرہ موجود ہے، جو 3 لاکھ 64 ہزار میٹرک ٹن اسٹاک پر مشتمل ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال جون میں پٹرول بحران سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا تھا، جس پر وزیر اعظم نے ندیم بابر کو معاون خصوصی برائے پٹرولیم کا قلم دان چھوڑنے کی ہدایت کر دی تھی۔26 مارچ کو وفاقی کابینہ کی ہدایت پر پٹرولیم ڈویژن نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے فرانزک آڈٹ کا فیصلہ کیا تھا، آڈٹ سے جون 2020 میں پٹرولیم بحران میں ملوث کمپنیوں کا پتا چلے گا، آڈٹ سے یہ معلوم ہو جائے گا کہ کون سی کمپنیوں نے پٹرول کی ذخیرہ اندوزی کی، اور کس نے کتنا پیسا بنایا۔

متعلقہ عنوان :