صدرمملکت کا جسٹس فائز عیسیٰ ریفرنس میں سپریم کورٹ سے پھر رجوع

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی کیس میں دوسری نظر ثانی اپیل بھی مسترد قرار دی

جمعرات مئی 00:11

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 26 مئی2021ء) صدر مملکت عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس میں سپریم کورٹ سے پھر رجوع کر لیا تاہم سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی کیس میں دوسری نظر ثانی اپیل بھی مسترد قرار دی ہے ۔تفصیلات کے مطابق صدرمملکت نے درخواستوں کی سماعت دوبارہ کرنے کیلئے نئی درخواست سپریم کورٹ میں دے دی۔صدرمملکت نے ازخود نوٹس دائرہ اختیار تحت آئینی درخواست دائرکی ہے، 70 صفحات پر مشتمل درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں صدر نے موقف اختیار کیا ہے کہ نظرثانی درخواست پر فیصلے کے بعد بھی ازخود نوٹس دائرہ اختیار پر سماعت ہوسکتی ہے۔ دریں اثناء رجسٹرار آفس سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائر درخواستیں اعتراض لگا کر واپس کردیں، رجسٹرارآفس نے اعتراض لگایا کہ ایک کیس میں دوبار نظر ثانی نہیں ہوسکتی، صدر مملکت، وزیراعظم ، وزیرقانون نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف نظرثانی درخواستیں دائر کی تھیں۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ، وزیراعظم عمران خان، وزیرقانون فروغ نسیم، معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف الگ الگ درخواستیں دائرکی گئی تھیں۔اسی طرح ایف بی آر کی جانب سے بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف درخواست دائرکی گئی تھی۔ درخواستوں میں سپریم کورٹ کے تمام ججز پر مشتمل فل بنچ تشکیل دینے کی استدعا کی گئی۔ واضح رہے اس سے قبل 26 اپریل 2021ئ کو سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں دائر نظر ثانی درخواستوں پر مختصر تحریری فیصلہ جاری کیا تھا ۔