خیبرپختونخواہ میں ٹیکسز میں اضافے کے اعدادوشمارسامنے آگئے

رہائشی اور کمرشل پلاٹ کی منتقلی پر600 سے 1200 روپے فی مرلہ ٹیکس لیا جائے گا، سیاحتی علاقوں میں ہوٹلز، گیسٹ ہاؤسز پر 5 فیصد ٹیکس عائد کردیا گیا،پٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشن سالانہ 45 ہزار ٹیکس دیں گے۔ بجٹ دستاویزات

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ جون 23:31

خیبرپختونخواہ میں ٹیکسز میں اضافے کے اعدادوشمارسامنے آگئے
پشاور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2021ء) خیبرپختونخواہ میں ٹیکسز میں اضافے کے اعدادوشمار سامنے آگئے، رہائشی اور کمرشل پلاٹ کی منتقلی پر600 سے 1200روپے فی مرلہ ٹیکس لیا جائے گا، سیاحتی علاقوں میں گلیات، کاغان میں ہوٹلز، گیسٹ ہاؤسزپر 5 فیصد ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواہ میں پراپرٹی و دیگرٹیکسز میں اضافے کے اعدادوشمار سامنے آگئے، جس کے تحت پراپرٹی معاہدے کے اسٹامپ پیپر پر ٹیکس کم کردیا گیا ہے،ایک لاکھ سے کم معاہدے کے اسٹامپ پیپر پر اڑھائی سو روپے، پچاس لاکھ کے معاہدے پر4 ہزار،ایک کروڑ کے معاہدے پر9 ہزار، اس سے زائد معاہدے پر40 ہزار ٹیکس ہوگا۔

پٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشن سالانہ 45 ہزار ٹیکس دیں گے۔ بجٹ میں پروفیشنل ٹیکس ختم اور لینڈ ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے۔

(جاری ہے)

6 لاکھ سے کم زرعی آمدن پر ٹیکس معاف کردیا گیا ہے۔ گلیات، کاغان میں ہوٹلز، گیسٹ ہاؤسز اور ریسٹورانٹس پر 5 فیصد ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔ اسی طرح بجٹ دستاویز کے مطابق چار ہزار سی سی تک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس ایک روپے کر دی گئی ہے، وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن کی شرح بڑھانے کے لیے فیس کم کرکے ایک روپے کی گئی ہے، چھوٹے کاشت کاروں کو ریلیف دینے کے لیے اراضی ٹیکس ختم کردیا گیا،تمام پیشوں پر پرفیشنل ٹیکس منسوخ کردیا گیا۔

بجٹ میں ثقافت وسیاحت کے ترقیاتی بجٹ میں دو ارب سے بڑھا کر12ارب کردیا گیا ہے جسکی وجہ سے اہم منصوبوں کی تکمیل ہوسکے گی بجٹ دستاویزات کے مطابق منصوبوں میں مڈکلاشٹ چیئرلفٹ، پاکستان کا پہلا موٹرسپورٹس ارینہ،ارباب نیازسٹیڈیم ،حیات آباد اورکالام کرکٹ سٹیڈیم، ملاکنڈ اورہزارہ ڈویڑن میں سیاحتی شاہرائوں کی تعمیر، دلیپ کماراورراج کپور کے آبائی گھروں کی بحالی ، ثقافتی ورثوں کا تحفظ ضلعی ہیڈکوارٹرمیں عورتوں کیلئے انڈورجمنیزیم کا قیام ،ہنڈواٹرپارک کاچارسوکنال رقبے پرقیام اور انٹرگریٹڈزون کا قیام شامل ہیں بجٹ دستاویزکے مطابق صوبے میں اگلے سال48.2ارب روپے کی لاگت سے تین ہزارکلومیٹرسے زائد سڑکوں کی تعمیرہوگی۔