بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ سے پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر میر نذیر کھوسہ ‘ ماما حید رچھلگرانی ‘ سید مختیارشاہ کی ملاقات

منگل جولائی 23:35

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 جولائی2021ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ایم این اے آغا حسن بلوچ سے ان کی رہائش گاہ پر پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر میر نذیر کھوسہ ‘ ماما حید رچھلگرانی ‘ سید مختیار شاہ سے ملاقات کی اور کہا کہ بی این پی اصولی سیاسی جماعت ہے جنہوں نے اپنے عمل ‘ کردار اور ثابت قدمی کی جدوجہد سے یہ ثابت کیا ہے کہ سردار اختر جان مینگل کی قیادت وقت و حالات کی ضرورت ہے ان کی قیادت میں پارٹی قومی جمہوری سیاسی انداز میں بلوچ اور بلوچستانی عوام کے جملہ مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہے پارٹی کے سامنے مراعات گروہی مفادات ‘ وزارتوں کی کوئی حیثیت نہیں انتخابات میں بلوچ اور بلوچستانی عوام نے مینڈیٹ دیا چاہتے تو وزارتیں ‘ گروہی مفادات حاصل کر سکتے تھے مگر بلوچ لاپتہ افراد بلوچستان کے قومی حقوق کے حصول ‘ شہداء کے مشن ‘ بلوچستان کے بقاء و سلامتی ‘ حق حاکمیت ‘ وسائل کا دفاع ‘ انسانی حقوق کی پامالی پر آواز بلند نہیں کر سکتے تھے اسی لئے پارٹی نے مشکل فیصلہ کیا حالانکہ لوگوں کے بنیادی انسانی ضروریات ‘ بنیادی مسائل کا احساس ضرور ہے بحیثیت بلوچ بلوچستان کے قومی تشخص ‘ زبان ‘ ثقافت ‘ مادر وطن کی حقیقی حفاظت ‘ شہداء کی قربانیاں زیادہ عزیز تھے آج ایک بار پھر حکمران جماعتیں منظم طریقے سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل اور پارٹی کے خلاف گھنائونی سازشیں کرنے میں مصروف عمل ہیں حالانکہ انہیں یہ پتہ ہے کہ ماضی میں گروہی مفادات کے لئے بلوچستان کا ہر طریقے سے سودا کیا ساحل وسائل کو لوٹنے کیلئے چپ ساد رکھے ہیں بی این پی آج بھی نومولود حکمران ‘ نام نہاد قوم پرست جو اقتدار پر براجمان رہے ان میں اس اخلاقی جرات نہیں تھی کہ وہ بلوچستان کی بقاء کی بات کرتے آج ایک بار پھر بلوچستان کے فرزندوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ مفاد پرست سیاسی جماعتیں اور بی این پی جو اصولوں کی سیاست کر رہی ہے ان میں فرق کر ے بی این پی روز اول سے بلوچستان کے حقوق کی بات کر رہی ہے تنگ نظر سیاست کی بیخ کنی کی فرقہ واریت ‘ تنگ نظری کی سیاست کے خلاف کوئٹہ اور بلوچستان کے عوام کو متحد کیا نفرتوں کی سیاست کے خلاف اصولی موقف رکھاانہوں نے کہا کہ اب بلوچ اور بلوچستانی عوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہماری سیاست اور موقع پرستوں کی سیاست میں فرق ضرور محفوظ کریں 600لاپتہ کی بازیابی میں سردار اختر جان مینگل ‘ پارٹی کی کوششیں شامل ہیں جن کو کوئی رد نہیں کر سکتا اب جب بلوچستان میں ناراض بلوچوں سے مذاکرات کی باتیں کی جا رہی ہیں تو موجود ہ حکمران خائق ہیں کیونکہ اگر ارباب و اختیار اور ناراض بلوچوں کے مابین مذاکرات شروع ہوئے تو یقیناً ان کی دکانداری بند ہو جائیگی حکمرانوں کی کوشش ہے کہ بلوچستان میں آپریشن ‘ بلوچ نسل کشی ‘ انسانی حقوق کی پامالی کا عمل جاری رکھا جائے بلوچ بلوچستانی عوام ان حکمرانوں کے احتساب کریں کیونکہ حکمران ہر کام اپنے مفاد کیلئے کرتے ہیں عوام سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔