Live Updates

ملک میں مہنگائی کی شرح میں 1.31 فیصد کا مزید اضافہ ہوگیا

متعدد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، آٹا، سبزی، چینی، گھی، گوشت سمیت22 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں۔ ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 17 ستمبر 2021 20:29

ملک میں مہنگائی کی شرح میں 1.31 فیصد کا مزید اضافہ ہوگیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17ستمبر2021ء) ملک میں مہنگائی کی شرح میں 1.31 فیصد کا مزید اضافہ ہوگیا، متعدد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا، آٹا، سبزی، دالیں، چینی، گھی، گوشت کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں۔ ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح میں ہر ہفتے اضافہ ہونے کا سلسلہ جاری ہے، رواں ہفتے مہنگائی کی شرح میں 1.31 فیصد کا مزید اضافہ ہوا ہے۔

ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ایک ہفتے کے دوران 10 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، اسی طرح دودھ، خشک لکڑی سمیت 19 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دال مونگ کی فی کلو قیمت میں 4 روپے کمی ریکارڈ کی گئی، دال چنا کی فی کلو قیمت 150 روپے ہوگئی، ٹماٹر کی فی کلو قیمت 54 روپے 65 پیسے ریکارڈ کی گئی، گزشتہ ہفتے پیاز کی قیمت میں فی کلو 4 روپے 55 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

(جاری ہے)

فی کلو پیاز کی قیمت 58 روپے 43 کی سطح پر پہنچ  گئی۔ اسی طرح ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 1869 روپے سے مہنگا ہو کر1917 روپے کا ہو گیا ہے۔ چینی کی فی کلو قیمت میں ایک روپیہ 32 پیسے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ چینی کی فی کلو قیمت 108.43 روپے ہوگئی، رواں ہفتے 20 کلو آٹے کا تھیلا 12 روپے11 پیسے مہنگا ہوگیا، آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 1234 روپے تک پہنچ گئی، زندہ مرغی کی قیمت میں 7 روپے 3 پیسے کا اضافہ ہوا۔

زندہ مرغی کی فی کلو قیمت 221 روپے ہوگئی ہے۔ اسی طرح گزشتہ ہفتے میں انڈوں کی فی درجن قیمت میں 5 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے مہنگائی کا ایک اور بم عوام پر گرا دیا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ اور روپے کی قیمت میں مزید کمی سے مہنگائی کا طوفان برپا ہوگا جس سے عام آدمی شدید متاثراور ان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔

حکمرانوں کی عوام دشمن معاشی پالیسیوں سے عیاں ہو چکا ہےکہ ان کا پروگرام غربت نہیں ’’غریب مکاؤ‘‘ ہے۔ جتنی مہنگائی گزشتہ تین برسوں میں بڑھی ملکی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ جب تک حکمران آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر عمل پیرا رہیں گے مہنگائی کے سیلاب کو روکنا ممکن نہیں۔
Live مہنگائی کا طوفان سے متعلق تازہ ترین معلومات