بلوچستان کا سیاسی بحران فیصلہ کن مرحلے میں داخل‘ وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی تاریخ سامنے آگئی

بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے 20 اکتوبر کو وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا

Sajid Ali ساجد علی اتوار 17 اکتوبر 2021 12:19

بلوچستان کا سیاسی بحران فیصلہ کن مرحلے میں داخل‘ وزیراعلیٰ کیخلاف ..
کوئٹہ ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 17 اکتوبر 2021ء ) بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے 20 اکتوبر کو وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق گورنر بلوچستان نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس بدھ 20 اکتوبر سہ پہر 4 بجے طلب کیا ہے ، جس میں وزیر اعلیٰ جام کمال خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی ، بی اے پی رہنماؤں کے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پارلیمانی اراکین کی مشاورت سے نیا پارلیمانی لیڈر اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر نئے قائد ایوان کو منتخب کرنے پر بھی اتفاق کرلیا گیا جب کہ پارٹی عہدیداروں کی طرف سے ظہور احمد بلیدی کو پارٹی کا قائم مقام صدر مقرر کرنے کے فیصلے کی توثیق کی گئی۔

ادھر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے پارٹی جنرل سیکرٹری سینیٹر منظوراحمد کاکڑ کو ایک خط لکھا ہے جس مین کہا گیا ہے کہ 11 اکتوبر کونامزدگی برائے قائم مقام صدر بلوچستان عوامی پارٹی آپ نے جو خط قائم مقام صدر اور پارٹی ترجمان کے حوالے سے جاری کیا آئین کی روح سے یہ ایک غیر آئینی اقدام ہے لہذا آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے جاری کردہ خط کو منسوخ کیا جائے اورکوریجنڈم جاری کیا جائے۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے دعویٰ کیا کہ ناراض ارکان پی ڈی ایم کاحصہ بن کربی اےپی حکومت گرانا چاہتے ہیں ، پی ٹی آئی بلوچستان میں حکومت کی ‏اتحادی ہے ہم وفاق میں پی ٹی آئی کیساتھ ہیں اوربلوچستان وہ ہمارےساتھ ہیں، پی ٹی آئی اتحادی جماعت ہے ، یقیناً ہمارے ساتھ ہے ، ماحولیات سےمتعلق میٹنگ ‏میں اسلام آباد آیا تھا وزیراعظم عمران خان سےکل ملاقات متوقع ہے۔

ایک ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ شروع میں اختلافات آئےتوصادق سنجرانی سمیت سب بلوچستان آئے ناراض دوستوں نے ٹھان ‏لی تھی کہ معاملہ حل نہیں کرنا صادق سنجرانی مسائل حل کرنےپرتوجہ دے رہےہیں ، بلوچستان میں عدم ‏استحکام کوئی نہیں چاہتا تاثرپیدا کیا گیا ہے کہ اکثریت ہمارے خلاف ہے اکثریت ہمارے ساتھ ہے مخالفت کی تعداد ‏کم ہے تحریک عدم اعتماد پر14ارکان نےدستخط کیےتھے اور پریس کانفرنس میں6،7 سےزائدارکان نہیں تھے ، ‏ہو سکتا ہے 3 ہفتے پہلے لوگوں سے دستخط لےلیے گئے ہوں ، ناراض دوستوں سے ملاقات کی ان کے مسائل بھی سنے کچھ ارکان نےکہا ہم مجبوری ‏میں کچھ لوگوں کیساتھ کھڑے ہیں ، امید ہے کچھ جو دستخط بھی کرچکے ہیں خلاف ووٹ دینے نہیں جائیں گے۔