Live Updates

کورونا کے دوران آزادی اظہار پر قدغن کی کوششیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل

DW ڈی ڈبلیو منگل 19 اکتوبر 2021 12:20

کورونا کے دوران آزادی اظہار پر قدغن کی کوششیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 19 اکتوبر 2021ء) حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی جابرانہ حکومتوں نے آزادی رائے اور میڈیا کی آزادی پر قدغنیں لگانے کے لیے کورونا وائرس کی وبا کا ہتھیار کے طورپر استعمال کرتی رہی ہیں۔ اس ضمن میں اس نے بعض حکومتوں کے اقدام کا حوالہ بھی دیا ہے۔

عالمی تنظیم نے اس حوالے سے اپنی رپورٹ کو، ''سائلینسڈ اینڈ مس انفارمڈ: فریڈم آف ایکسپریشن ان ڈینجر ڈیورنگ کووڈ 19 "کا نام دیا ہے۔

یعنی یہ رپورٹ کووڈ کی وبا کے دوران خاموش کرانے اور غلط معلومات پھیلانے جیسے خطرات پر مبنی ہے۔ اس رپورٹ میں دنیا بھر کی ان حکومتوں کے اعلان کردہ ایسے متعدد اقدامات کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے تحت 2020 میں آزادی اظہار پر ''غیر معمولی'' پابندیاں عائد کی گئیں۔

(جاری ہے)

تنظیم میں شعبہ ریسرچ اور ایڈوکیسی پالیسی کے سینیئر ڈائریکٹر رجت کھوسلہ کا کہنا تھا، ''ذرائع ابلاغ کے چینلوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، سوشل میڈیا کو سینسر کیا گیا اور بہت سے میڈیا اداروں کو تو بند کر دیا گیا ہے۔

'' ان کا کہنا ہے کہ مناسب معلومات کی کمی کے سبب بہت سی زندگیوں کے بھی ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

ایمنسٹی کی اس تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے، ''وہ حکومتیں جو ایک طویل عرصے سے سخت قوانین کی مدد سے عوام میں بتائی جانے والی چیزوں پر سخت کنٹرول رکھتی ہیں، انہوں نے تنقید کو خاموش کرنے، بحث و مباحثے اور معلومات ایک دوسرے سے شریک کرنے پر کنٹرول کے لیے سینسر قوانین کے نفاذ کے لیے وبا کو ایک اور بہانے کے طور پر استعمال کیا ہے۔

''

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض، ''دوسری حکومتوں نے وبائی امراض سے پیدا ہونے والی صورت حال اور پریشانیوں کو ایسے ہنگامی اقدامات اپنانے اور نئے قوانین وضع کرنے کے لیے استعمال کیا، جو نہ صرف غیر متناسب ہیں بلکہ غلط معلومات جیسے مسائل سے نمٹنے میں بھی غیر موثر ثابت ہوئے ہیں۔''

چین اور روس میں آزادی مزید محدود ہوئی

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین، جہاں 2019 میں سب سے پہلے کورونا وائرس کا انکشاف ہوا تھا، نے فروری 2020 تک5115 افراد کے خلاف مجرمانہ تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

چینی حکام کے مطابق ان لوگوں پر وبا کی نوعیت اور اس کی حدود کے بارے میں، ''غلط اور مضر معلومات گھڑنے اور پھر دانستہ طور پر اسے پھیلانے'' کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

ایمنسٹی کے مطابق روس نے بھی جعلی نیوز سے متعلق اپنے قانون میں توسیع کی اور ایسی ترامیم متعارف کروائیں جس کے تحت ہنگامی حالات کے تناظر میں، ''جان بوجھ کر غلط معلومات کو عوام میں پھیلا نے پر'' مجرمانہ سزائیں دی جا سکیں۔

تنظیم کے مطابق روس نے جعلی نیوز شائع کرنے کے نام پر میڈیا اداروں کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کے لیے قوانین وضع کیے۔ ادارے کا کہنا ہے یہ قدغنیں وبا کے پس منظر میں عائد کی گئی تھیں تاہم زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ وبا کے خاتمے کے بعد بھی یہ سختیاں برقرار رہیں گی۔

سوشل میڈیا اور جعلی خبروں کا حملہ

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں سوشل میڈیا کی اس مہم کو بھی اجاگر کیا ہے کہ کس طرح وہ غلط معلومات پھیلانے کے لیے سہولت کار بنتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس، ''انداز سے مواد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے کہ صارفین کی زیادہ سے زیادہ توجہ اپنی جانب راغب کر کے انہیں مشغول رکھا جا سکے۔ اس سلسلے میں وہ جھوٹی اور گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تندہی سے کام نہیں لیتی ہیں۔''

تنظیم نے اپنی 38 صفحے کی رپورٹ میں کہا ہے، ''غلط معلومات کا حملہ...آزادی اظہار کے حقوق اور صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

''

رجت کھوسلہ کہتے ہیں، ''ریاستوں اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوام کو درست، شواہد پر مبنی اور بر وقت معلومات تک بلا روک ٹوک رسائی حاصل ہو۔ ویکسین سے متعلق غلط معلومات کے سبب جو ہچکچاہٹ ہے اس میں کمی کے لیے یہ ایک اہم قدم ہے۔''

ص ز/ ج ا (اے ایف پی، ڈی پی اے)

Live کرونا کی نئی قسم اومیکرون کا پھیلاو سے متعلق تازہ ترین معلومات