نور مقدم قتل کیس میں اہم پیش رفت

مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر نے فرد ِجرم کے خلاف درخواست واپس لے لی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ 22 اکتوبر 2021 13:38

نور مقدم قتل کیس میں اہم پیش رفت
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2021ء) نور مقدم قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔سماء ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر نے فرد جرم کے خلاف درخواست واپس لے لی ہے۔جمعہ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔ملزم ذاکر جعفر کے وکیل راجا رضوان عباسی نے درخواست واپس لی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے 18 اکتوبر کو ملزم کے والد ذاکر جعفر کے خلاف دائر درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا تھا۔ نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد نے فرد جرم کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ذاکر جعفر نے فرد جرم کے خلاف دائر درخواست میں ٹرائل کورٹ کا 14 اکتوبر کا حکمنامہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔

(جاری ہے)

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ٹرائل کورٹ کا آرڈر قانونی نظر سے نامناسب ہے۔ٹرائل کورٹ نے تاثر دیا کہ فرد جرم پراسیکیوشن کی خواہش کے مطابق ہوتی ہے۔آرڈر سے تاثر ملازم پولیس جو بھی الزام لگا دے اس پر فرد جرم ہو سکتی ہے۔ذاکر جعفر نے اپنی درخواست میں موقف اپنایا کہ ٹرائل کورٹ نے تاثر دیا کہ فرد جرم محض ایک مکینیکل مشق ہے۔ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قررا دیا جائے۔

واضح رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر ، اس کے والد ذاکر جعفر، والدہ عصمت آدم اور ملازمین افتخار، جمیل، جان محمد سمیت تھراپی ورکس سے وابستہ 6 ملزمان پر بھی فرد جرم عائد کی تھی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل دو ماہ میں مکمل کرنے کاحکم دے رکھاہے، فرد جرم عائد ہونے کے بعد حکم پر عمل درآمد کا آغاز ہوگیا ہے۔

سماعت کے دوران مرکزی ملزم ظاہر جعفر عدالتی کارروائی میں مسلسل مداخلت کرتا رہا اور کہا کہ نور قربان ہونا چاہتی تھی، اس نے خود کو قربانی کیلئے پیش کیا۔ظاہر جعفر نے کمرہ عدالت میں نور مقدم کے والد شوکت مقدم سے ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی۔ ظاہر جعفرنے بار بار عدالت سے فون کال کرنے کی اجازت کی استدعا بھی کی۔ دوران سماعت ظاہر جعفر کے ملازم ملزم افتخار نے روتے ہوئے کہا کہ نور کا دو سال سے آنا جانا تھا، نہیں علم تھا کہ یہ ہو گا۔

جبکہ تھراپی ورکس کے چھ ملزمان بھی عدالتی نوٹس پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے اور صحت جرم سے انکارکیا۔عدالت نے استغاثہ کے گواہ 20 اکتوبر کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔خیال رہے کہ اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود ایف سیون فور میں 20 مئی کو 28 سالہ لڑکی نور مقدم کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا۔نور مقدم قتل کیس کا ملزم ظاہر جعفر پولیس کی تحویل میں ہے جس کا پولیس کی جانب سے پولی گرافک ٹیسٹ بھی کرایا گیا ہے۔