کراچی میں اورنگی ٹاؤن تھانے کے قریب پولیس مقابلہ جعلی نکلا

فائرنگ کرنے والے اہلکار توحید کو ‏حراست میں لے لیا اور مقابلےکی تفتیش کے لیے انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ۔ ڈی آئی جی ویسٹ ناصرآفتاب

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل 7 دسمبر 2021 10:31

کراچی میں اورنگی ٹاؤن تھانے کے قریب پولیس مقابلہ جعلی نکلا
کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 07 دسمبر 2021ء) : کراچی کے علاقہ اورنگی ٹاؤن میں مبینہ مقابلے میں مبینہ ملزم کی ہلاکت پر عباسی شہید اسپتال میں حالات ‏کشیدہ ہو گئے جبکہ ملزم کےاہل خانہ اور دیگر افراد بڑی تعداد میں عباسی اسپتال پہنچی اور اسپتال میں ہنگامہ ‏آرائی شروع کر دی۔ پیر کی رات ہونے والے پولیس مقابلے کے حوالے ترجمان کراچی پولیس اعلامیہ جاری کیا جس میں ایس ایچ او نے بتایا کہ پولیس مقابلے میں ایک ملزم ہلاک ہو گیا جبکہ اس کا دوسرا ساتھی موقع سے فرار ہوگیا ۔

پولیس نے مارے جانے والے ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور 5 گولیاں برآمد کیں۔ پولیس کی جانب سے جاری بیان کے بعد عباسی شہید اسپتال میں پولیس کے جعلی مقابلے میں جاں بحق ہونے والے نوجوان کے والد حاجی لیاقت اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد عباسی شہید اسپتال پہنچی اور پولیس کے جعلی مقابلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

(جاری ہے)

مبینہ ہلاک ملزم کی عمر 20 سال ہے ۔

اہلخانہ کے مطابق بیٹا ‏کوچنگ سینٹر سے واپس جا رہا تھا کہ اسے نشانہ بنایا گیا۔ نوجوان کے والد نے بتایا کہ میرا بیٹا ارسلان انٹر کا طالبعلم تھا جو اپنے دوست کے ہمراہ کوچنگ سینٹر آیا تھا لیکن اورنگی پونے پانچ تھانے کے اعظم ایس ایچ او نے اسے جعلی مقابلے میں مار دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمارا تعلق بھی وزیرستان سے ہے اور خون کا بدلہ خون ہے ، ، مقتول کے والد سے متعلق معلوم ہوا کہ حاجی لیاقت ڈمپر ایسوسی ایشن کے عہدیدار ہیں جبکہ پولیس مقابلے کے بعد ایس ایچ او اعظم گوپانگ اتنی بوکھلاہٹ کا شکار تھے کہ انہیں کئی مرتبہ اس حوالے سے فون کیا لیکن انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔

دوسری جانب مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے احتجاج اور پولیس مقابلے کو جعلی قرار دینے پر ڈی آئی جی ویسٹ کا بیان بھی سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ فائرنگ کرنے والے اہلکار توحید کو ‏حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی سینٹرل کی سربراہی میں 3 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، اس کمیٹی میں ایس ایس پی سینٹرل، ایس ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل، ایس پی گلبرگ شامل ‏ہیں۔ یہ کمیٹی 24 گھنٹے میں واقعہ کی غیر جانبدار تحقیقات مرتب کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے مقتول کے لواحقین کو یقین دہانی کروائی کہ معاملے کی شفاف انکوائری کروائی جائے گی۔
>