وفاقی اورصوبائی سطح پر نول ٹوبیکو پراڈکٹس کو نشہ آورمصنوعات قراردیکر ان پر فوری پابندی عائد کی جائے ، سید کوثر عباس
بدھ 17 مئی 2023 19:00
(جاری ہے)
اس تربیتی ورکشاپ میں راولپنڈی، اسلام آباد ،جہلم ، ملتان اور لاہور کے صحافیوں نے حصہ لیا ۔
سی ٹی ایف کے سے صوفیہ منصوری نے نول ٹوبیکو پراڈکٹس اور ان کے اثرات ،پروگرام منیجر ایس ایس ڈی او خرم ملک نے نول پراڈکٹس کنٹرول بارے میڈیا کے کردار پر پریذنٹیشن دی ۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایس ایس ڈی او سید کوثر عباس نے اپنے خطاب میں کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر ویلو سمیت دیگر نوعیت کے نول ٹوبیکو پراڈکٹس مقامی سطح پر تیا ر نہیں ہورہے اور نہ ہی صحت سے متعلقہ اداروں کو اس کے خطرات کا علم ہے ،اسی لئے ابھی تک کسی بھی ادارے کوان پراڈکٹس کے اثرات کا بھی پتہ نہیں ہے لیکن عالمی سطح پر کئی ممالک میں ان مصنوعات پر پابندی عائد کی جاچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر فوری طور پر ویلو طرز کی تمام پراڈکٹس کو نشہ آور قرار دیکر ان پر فوری پابندی عائد ہونی چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی مصنوعات یونیورسٹیوں، کالجز ، تعلیمی اداروں کے قریب فروخت نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی مارٹس اور ڈیپارنمنٹل سٹورز پر ان کے ڈسپلز ہونے چاہیں ۔انہوں نے کہا کہ والدین کو اپنے بچوں پر خصوصی توجہ دینی چاہیے ، تعلیمی اداروں سے واپسی پر بھی چیکنگ ہونی چاہیے کہ ان پاس اس نوعیت کی کوئی نشہ آور چیز تو نہیں ہے ۔ سید کوثر عباس نے کہا کہ اگر بروقت ہم نے اس معاملے پر توجہ نہ دی تو سکول سطح پر ہمارے بچے اس نشے میں مبتلا ہو کرمعاشرے کے مفید شہری بننے کی ڈور سے باہر ہوجائیں گے ۔ اگر عالمی اداروں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ صرف ملک میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کی تعداد 24 ملین سے زیادہ ہے ، نول پروڈکٹس ، نسوار اسکے علاوہ ہیں ۔ سی ٹی ایف کے سے صوفیہ منصوری نے شرکا کو بتایا کہ ہمارے پاس سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر نول ٹوبیکو پروڈکٹس کے استعمال کے اعداد و شمار ہی نہیں ہے، اپنی سطح پر کی گئی ابتدائی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت تک پاکستان میں یومیہ 1200 بچے جن کی عمریں 12 سے 18 سال تک ہیں وہ نول پروڈکٹس کا شکار ہورہے ہیں ، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ویلو ، ای سگریٹس سمیت دیگر نول ٹوبیکو پراڈکٹس گلی اور محلہ کی سطح کی مارکیٹس سے باآسانی مل جاتیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 615 ارب کے سگریٹس استعمال ہورہے ہیں اس رپورٹ کی توثیق عالمی ادارہ صحت نے بھی کی ہے ہمیں اس مرحلہ پر مداخلت کرنے کی ضرورت ہے ، میڈیا ،والدین ، پارلیمان (وفاقی ،صوبائی) سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے ۔ تربیتی ورکشاپ کے اختتام پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایس ایس ڈی او سید کوثر عباس اور سی ٹی ایف کے سے صوفیہ منصوری نے صحافیوں میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے ۔متعلقہ عنوان :
مزید قومی خبریں
-
وزیراعلیٰ بلوچستان کا سینئر صحافی عبدالستار کاکڑ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار
-
وزی اعلیٰ بلوچستان سے ورلڈ فوڈ پروگرام پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش کی ملاقات
-
درگاہ لعل شہباز قلندر کے منیجر اوقاف عہدے سے ہٹا دیے گئے
-
شرجیل میمن کی کراچی پریس کلب آمد ، صحافیوں کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی
-
ایس ایچ او کے فارم ہاؤس اور پٹرول پمپ پر چھاپہ، ایرانی ڈیزل برآمد
-
سندھ میں ریبیز سے 35 اموات، محکمہ صحت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان
-
نالے کی صفائی کے دوران دم گھٹنے سے خاکروب جاں بحق
-
پنجاب میں 40 پرائمری سٹروک سینٹرز مکمل فعال، 336مریضوں کی جانیں بچائی گئیں‘ عظمیٰ بخاری
-
سرگودھا کے ٹریفک حادثات میں دو بھائی اور لوڈر رکشہ ڈرائیور جاں بحق
-
ہڈیارہ میں 23 سالہ لڑکی نے زہریلی کھا کر خودکشی کرلی
-
ایف آئی اے ایبٹ آباد نے کینیڈا کا ورک ویزا دلانے کے نام پر لاکھوں روپے ہضم کرنے والے ایجنٹ کو گرفتار کر لیا
-
میانوالی کے علاقہ چکڑالہ میں نماز کیلئے مسجد میں جاتے ہوئے ایک بزرگ کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.